ریکوڈک پر سعودیوں سے ڈیل دسمبر تک ہونے کی امید ہے: نگران وزیراعظم

پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے پیر کو عرب نیوز کو دیے انٹرویو میں تصدیق کی کہ ریکو ڈک میں شیئرز خریدنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سعودی عرب کے ریکوڈک میں شیئر خریدنے کا معاہدہ دسمبر تک ہونے کے لیے پرامید ہے۔

ریکوڈک سونے اور تانبے کے دنیا کے بڑے مائننگ منصوبوں میں سے ایک ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ وہ اپنے شیئرز فروخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے پیر کو عرب نیوز کو دیے انٹرویو میں تصدیق کی کہ ریکو ڈک میں شیئرز خریدنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’وہ دسمبر تک معاہدہ ہونے کے لیے پرامید ہیں۔‘

تاہم سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس منصوبے میں دلچسپی کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کے نگران وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’ہم سعودی عرب کی پیشکش کو لے کر کافی پرجوش ہیں، اور ہم ان کی شراکت پر کافی حوصلہ افزائی کریں گے، نہ صرف اس منصوبے میں بلکہ اس کے علاوہ بھی۔‘

جب انوار الحق کاکڑ سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان حکومت کے لیے اپنی ملکیت سعودی عرب کو فروخت کرنا اور مائنز میں مساوی حصص رکھنے سے محروم ہونا قابل قبول ہے؟

اس سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’ابھی مذاکراتی دور ہے جو تین پارٹیوں کے درمیان چل رہے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ ان کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم صرف ایک حکومت ہیں جو چاہتی ہے کہ سعودی اس معاہدے اور دیگر تفصیلات کا حصہ بنیں اور جب کسی واضح فیصلے پر پہنچیں گے تو ہم اس سے آگاہ کر دیں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ابھی اس دن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘ انوار الحق کاکڑ سے عرب نیوز کی صحافی نے سوال کیا کہ کیا ان کی حکومت 25 دسمبر کی ڈیڈلائن تک کامیاب ہو جائے گی؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے (ہمیں دسمبر تک معاہدے کی امید ہے)۔‘

اگست میں پاکستان نے اسلام آباد میں ابتدائی مائننگ کانفرنس میں سعودی عرب کے حکام کی میزبانی کی تھی جہاں بیرک آفیشز بھی موجود تھے۔ بیرک اور سعودی سرکاری کان کن کمپنی معادن مشترکہ طور پر جدہ میں تانبے کا ایک پراجیکٹ چلاتی ہیں۔

بیرک گولڈ ریکوڈک کان میں 50 فیصد حصص کا مالک ہے، جس میں پاکستان کی وفاقی حکومت 25 فیصد حصہ رکھتی ہے اور بلوچستان کی علاقائی حکومت، جہاں ذخائر واقع ہیں، باقی کی مالک ہے۔ یہاں سات بلین ڈّالر سے زیادہ کا منصوبہ نصف صدی سے زائد عرصے تک ایک سال میں 200,000 ٹن تانبہ اور 250,000 اونس سونا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیرک کے سی ای او مارک برسٹو بارہا کہہ چکے ہیں کہ کمپنی کے حصص فروخت کے لیے نہیں ہیں لیکن اگر سعودی عرب حکومت پاکستان کا حصہ خریدنا چاہتا ہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنوبی ایشیائی ملک اب کینیڈا کی کان کن کمپنی کے برابر حصہ برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں