اسرائیل نے غزہ کو ’زندہ جہنم‘ میں تبدیل کر دیا ہے: نگران وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے او آئی سی-عرب لیگ مشترکہ سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ محصور غزہ پر اسرائیل کے حملے نسل کشی کا باعث ہیں اور اس سے خطےکو ’زندہ جہنم’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی رہنما غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے کردار ادا کریں اور غزہ میں جاری خون ریزی روک دی جائے۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں او آئی سی-عرب لیگ مشترکہ سربراہی اجلاس میں خطاب کے دوران انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور اردن کی سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگی جرائم پر اسرائیل کا محاسبہ کیا جائے، اسرائیل کے مظالم اور ریاستی دہشت گردی کی اس مہم کو فوری طور پر روکا جائے۔ فوری غیر مشروط جنگ بندی، غزہ کے محاصرے کو ختم اور غزہ کے لوگوں تک امداد کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے ریاض میں منعقدہ مشترکہ عرب و اسلامی غیر معمولی سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔نگران وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سیکرٹری خارجہ بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہوئے۔

ریاض میں جاری غیرمعمولی سربراہ اجلاس قابض اسرئیل کی فلسطین میں حالیہ انسانیت سوز جارحیت اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے منعقد کیا گیا۔ وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے اجلاس سے اپنے خطاب میں غزہ میں قابض صہیونی فوج کی جانب سے مسلسل اور ظالمانہ جارحیت کی واضح اور شدید مذمت کی ۔

وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں اسرائیل کی ان ظالمانہ کارروائیوں اور غزہ کے غیر انسانی و غیر قانونی محاصرے کو غزہ میں نہتے فلسطینیوں کی شہادتوں، بڑے پیمانے پر تباہی اور نقل مقانی کا ذمہ دار قرار دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیلی افواج فلسطین میں بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہیں۔اسرائیلی افواج کا مسلسل اور بلا تفریق نہتے فلسطینیوں پر طاقت کا استعمال جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

وزیرِ اعظم نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری اسرائیل کے جنگی جرائم پراسکا محاسبہ کرے۔اسرائیل کے مظالم اور ریاستی دھشت گردی کی اس مہم کو فوری طور پر روکا جائے۔فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی، غزہ کے محاصرے کو ختم اور غزہ کے لوگوں تک امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، اس تنازعے اور فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت کی بنیادی وجہ نو آبادیاتی سوچ اور فلسطینیوں کو حقِ خود ارادیت دینے سے انکار ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام اپنے فلسطینی بہن بھائیوں اور انکے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ان کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کے بطور دارلخلافہ کے ساتھ ایک خودمختار، پائیدار، محفوظ اور یکجا فلسطینی ریاست کے فوری قیام کو خطے میں دیر پا امن و سلامتی کی ضمانت قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں