نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے تو حلف کا تقاضا پورا کروں گا: عارف علوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے ’’کہ نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے تو حلف کا تقاضا پورا کروں گا۔ سیاست دان انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ مل کر کام کریں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘‘

امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، قبل از وقت رائے نہیں دینا چاہتا۔ عدلیہ، انتظامیہ اور سیاسی رہنما انتخابات کے بروقت انعقاد پر متفق ہیں۔ کوئی شبہ نہیں انتخابات 8 فروری کو نہ ہوں۔

عارف علوی نے مزید کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنا الیکشن کمیشن اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میں کسی جماعت کا نمائندہ نہیں۔ پی ٹی آئی کے تحفظات کے متعلق خط لکھ کر صرف حکومت کی توجہ دلائی۔

صدرعارف علوی نے مزید کہا کہ توقعات اپنی جگہ لیکن کوئی ایسا قدم نہیں لے سکتا جس کی آئین اجازت نہ دے، کسی جماعت کا نہیں ہر پاکستانی کا ترجمان ہوں، جہاں بھی مسائل دیکھوں گا ان کی نشاندہی کرتا رہوں گا۔ انتخابات کی تاریخ پر کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ اتفاق رائے سے الیکشن تاریخ پر سپریم کورٹ کو سراہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن شفاف بنانے کے لئے آئین صدر کو عملی قدم کی اجازت نہیں دیتا۔ صدر کے پاس انتظامی اختیارات نہیں، میری طرف سے اٹھائے جانے والے نقاط بہت معنی رکھتے ہیں۔ معاملات پر حکومت کی توجہ دلانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ حکومت نے لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ قوم بھروسہ رکھتی ہے حکومت لیول پلیئنگ فیلڈ کا اہتمام کرے گی۔

عمران خان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں صدر علوی نے کہا کہ عمران کی الیکشن میں شمولیت کا فیصلہ عدالت میں ہے۔ بحیثیت صدر عدلیہ پر دانستہ اعتماد رکھتا ہوں۔ فوج اور عمران خان کے درمیان مصالحت میں ناکامی کی بہت سی وجوہات تھیں۔ نو مئی کی مذمت کر چکا، تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ حکومتوں کو بھی چاہئے کہ ایسے حالات پیدا نہ کریں کہ احتجاج پرتشدد ہو جائے۔

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر صدر نے کہا کہ عام شہریوں کے فوجی عدالت میں مقدمے کا معاملہ عدالت میں ہے، نو مئی مقدمات کی فوجی عدالتوں میں سماعت پر قبل از وقت رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہتا۔

افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری کے حوالے سے صدر نے کہا کہ دنیا نے پناہ گزینوں کا بوجھ بانٹنے میں پاکستان کی مدد نہیں کی۔ غیر قانونی پناہ گزینوں کی واپسی کا فیصلہ مناسب اقدام ہے۔ ایپکس کمیٹی افغانوں کی واپسی کے فیصلے پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔ معیشت اب پناہ گزینوں کا بوجھ مزید اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔

پاکستان میں دہشت گردی اور افغان سرزمین استعمال ہونے کے ریاستی موقف کو دہراتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ افغان طالبان دراندازی روکنے میں ناکام رہے۔ یقین دہانی کے باوجود ٹی ٹی پی کے خلاف اقدام نہیں لئے گئے۔ آرمی چیف نے بتایا افغان طالبان کو شواہد بھی دیئے گئے۔ کابل سے رابطے کا فقدان نہیں، طالبان عملی اقدام لیں۔

فلسطین اور غزہ پر بات کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اپنے قیام کی تحریک سے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ غزہ صورتحال پر پاکستان نے عالمی فورمز پر اپنے مؤقف کا بھرپور اعادہ کیا۔ مسئلہ فلسطین کا حل صرف دو ریاستی منصوبہ ہے۔ غزہ ظلم پر دنیا کی عالمی رہنماؤں کی خاموشی افسوسناک ہے۔

اپنی مدت صدارت کے متعلق صدر علوی نے کہا کہ صدر کا آئینی مدت مکمل کرنا استحکام کی علامت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں