سردیوں میں گیس کی بندش، پاکستانیوں نے موبل آئل کے چولہے استعمال کرنا شروع کر دیے

ایک لیٹر استعمال شدہ موبل آئل سے چولہا چار گھنٹے چلے گا لیکن یہ مضرِ صحت بھی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جنوب مغربی پاکستان میں گیس کی مسلسل بندش اور لکڑی کی بڑھتی ہوئی قیمت کے درمیان شدید سردی سے بچنے کے لیے مقامی لوگوں نے ضرورت کے تحت ایک نئی ایجاد کی ہے: گاڑیوں کے استعمال شدہ تیل سے چلنے والے چولہے۔

چولہے کو جلانے کرنے کے لیے ایک لیٹر کا سلنڈر کی شکل کا کنٹینر سستے، استعمال شدہ تیل سے بھر دیا جاتا ہے اور موبل آئل میں بھیگے ہوئے کاغذ یا کپڑے کا ٹکڑا چولہے کے برنر کے اندر رکھا جاتا ہے۔ ایک بار جلنے کے بعد استعمال شدہ موبل آئل آگ کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے کنٹینر سے چولہے کے برنر میں ٹپکتا رہتا ہے جبکہ ایک چھوٹا پنکھا جو عموماً کمپیوٹرز میں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، شعلے کو برقرار رکھنے کے لیے برنر کو ہوا دیتا ہے۔

صوبہ بلوچستان میں سردیوں کا موسم شروع ہونے کے بعد سے نئے چولہے سینکڑوں گاہکوں کو شہر کی 'ٹک ٹک گلی' میں لے آئے ہیں۔ یہ گلی مقامی طور پر بنائے گئے پانی کے ڈرموں، گیس اور موبل آئل کے چولہوں اور ایلومینیم، لوہے اور سٹیل سے بنی ہوئی دیگر اشیاء کے لیے مشہور ہے۔

بازار میں ایک دکان 53 سالہ امداد علی چلاتے ہیں۔ علی نہ صرف مارکیٹ میں خصوصی چولہے خود بناتے ہیں بلکہ صوبہ پنجاب کے ایک صنعتی شہر گوجرانوالہ سے بھی منگواتے ہیں جو سٹیل اور ایلومینیم کے کاموں کے لیے مشہور ہے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "باقاعدگی سے پوری مارکیٹ میں روزانہ 300 سے زائد چولہے فروخت ہو رہے ہیں جبکہ مقامی کاریگر اب روزانہ کی بنیاد پر اسٹیل سے 15 سے 20 موبل آئل کے چولہے بنا رہے ہیں۔"

پنجاب کے بنے ہوئے چولہے اپنی پتلی ایلومینیم کی چادر کی وجہ سے زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں لیکن مقامی موبل آئل کے چولہے جو ہم یہاں لوہے سے بنا رہے ہیں وہ دیرپا ہوتے ہیں اور انہیں بڑے اجتماع یا کھانا پکانے کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔"

مقامی طور پر لوہے سے بنایا گیا چولہا تقریباً 6,000 روپے میں فروخت ہوتا ہے جبکہ گوجرانوالہ اور پنجاب کے دیگر شہروں میں ایلومینیم سے بنائے گئے ورژن کی قیمت تقریباً 5,000 روپے ہے۔

کوئٹہ کے مضافات میں رہنے والے 35 سالہ محمد عمران نے چولہے کی ادائی کرتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، "دسمبر اور جنوری میں کوئٹہ میں درجہ حرارت 0 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے گر جاتا ہے۔ اس طرح کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر سرد اضلاع میں بہت سے لوگ ان چولہوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں جو بہت زیادہ کارآمد ہیں۔"

"عام لوگوں کے لیے یہ چولہے بہت سستے اور کھانا پکانے اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے موزوں ہیں۔"

پاکستان میں 1952 میں بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت ہوئے تھے لیکن صوبے کے رہائشیوں کو 1970 میں گیس کی ترسیل شروع ہوئی۔

اس ماہ پیٹرولیم کلب آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیائی ملک میں روزانہ اوسطاً 4,100 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس کا استعمال ہوتا ہے جبکہ گیس کی حالیہ دریافت کے بعد اس کی پیداوار 2,923 سے بڑھ کر 3,127 ہوگئی ہے۔ اس دریافت نے ملک کی گیس کی خود کفالت کو 76.26 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔

بلوچستان میں موسم سرما میں جب درجۂ حرارت 0 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے گر جاتا ہے اور گیس کی بندش عام ہو جاتی ہے۔ عام شہری سوئی سدرن گیس کمپنی کو علاقے کے صارفین کے لیے گیس کے ناکافی پریشر کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

لیکن موبل آئل کے چولہے نے بلوچستان کے رہائشیوں کو ایک متبادل فراہم کیا ہے اور تیار کنندگان کے مطابق یہ صرف ایک لیٹر استعمال شدہ تیل سے چار گھنٹے سے زیادہ جل سکتے ہیں۔

علی نے کہا، "بلوچستان کے دور دراز سرد علاقوں میں ایران کی سرحد سے لے کر افغان سرحد تک لوگ بڑی تعداد میں یہ چولہے خرید رہے ہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں ان کے گھروں میں ہوا کا مناسب نظام موجود ہے۔"

"ہم ان صارفین کی رہنمائی کرتے ہیں جو کوئٹہ سے ہیں اور یہ چولہے خریدتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں کے اندر جلانے سے پہلے ان چولہے کے ساتھ بیرونی پائپ جوڑ لیں۔"

تاہم ماہرینِ ماحولیات نے کمروں کو گرم کرنے اور کھانا پکانے کے لیے موبل آئل کے استعمال سے منسلک حفاظت اور صحت کے خطرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان ماحولیاتی تحفظ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد علی کاکڑ نے کہا، موبل آئل کے چولہے کاربن کا دھواں خارج کرتے ہیں جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "ہمارے محکمے نے یہ چولہے فروخت کرنے والے بازاروں کا سروے شروع کر دیا ہے۔ ہم مضر صحت چولہے فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کریں گے۔"

"اگرچہ شہری گیس کے کم پریشر سے پریشان ہیں اور اس لیے متبادل حرارتی وسائل کی طرف جا رہے ہیں لیکن ان کے لیے یہ آگاہی ہونی چاہیے کہ مضرِ صحت وسائل استعمال کرنے سے زیادہ اہم ان کی صحت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں