الیکشن ملتوی کروانے کی ایک اور قرارداد سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملک میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرانے کے لیے ایک اور قرارداد سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی گئی۔ الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد سینیٹر ہلال الرحمان نے جمع کرائی جو فاٹا سے آزاد سینیٹر ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سینیٹر ہلال الرحمان کی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ شدید سردی اور برفباری خیبرپختونخوا میں شہریوں کو سازگاز ماحول میں ووٹ ڈالنے سے روک رہی ہے، امیداروں کو الیکشن مہم چلانے میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی خدشات کے باعث امیداروں کو دہشتگردوں کے حملوں کا خدشہ ہے، صوبے کے ووٹرز اور امیدواروں میں احساس محرومی ہے۔

سینیٹر ہلال الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں الیکشن تاریخ غیر موزوں ثابت ہو رہی ہے لہذا عام انتخابات کو آٹھ فرروی کے بجائے موزوں تاریخ تک ملتوی کیا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک قرارداد سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی تھی جبکہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے الیکشن مقررہ وقت پر کرانے کی قرارداد بھی سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پانچ جنوری کو سینیٹ نے ملک میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی تھی۔

واضح رہے کہ قرار داد کی منظوری کے وقت سینیٹ میں صرف 14 ارکان موجود تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان اور نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے قرار داد کی مخالفت کی تھی۔

پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نے رپورٹ کیا تھا کہ ایوان بالا میں آٹھ فروری 2024 کے انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی، قرارداد خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے آزاد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے قرار داد کی مخالفت نہیں کی تھی جس پر پارٹی نے ان کو شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب کا قرار داد کی منظوری سے متعلق کہنا تھا کہ سینیٹ قررارداد کے آگے پیچھے کوئی بھی ہو، الیکشن آٹھ فروری کو ہی ہوں گے۔

بعد ازاں نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے انتخابات میں تاخیر کے تاثر کو رد کردیا، بعد ازاں الیکشن کمیشن نے اس قرارداد کے پیش نظر اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔

آٹھ جنوری کو الیکشن وقت پر کرانے کے لیے سینیٹ سیکرٹریٹ میں ایک اور قرارداد جمع کروائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں