ہو سکتا ہے پانچ دس سیٹیں اِدھر اُدھر ہوئی ہوں: سینیٹر عرفان صدیقی

الیکشن کمیشن معافی مانگے اور چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں: ایوان بالا میں مختلف الخیال سینیٹرز کا اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے سینیٹ اجلاس کے دوران انتخابات میں بے ضابطگیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے پانچ یا 10 سیٹیں ادھر ادھر ہوئی ہوں۔ پاکستان کے ہر الیکشن میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کچھ زیادہ خوش گوار نہیں ہے۔ ملک میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں یا انتخابات کے بعد بننے والی حکومتوں کو اپنی معیاد پوری کرنے نہیں دی گی۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا سلسلہ 1970 سے جاری ہے۔ ’ایک الیکشن ملک توڑ دیتا ہے اور دوسرا مارشل کا تحفہ دے دیتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ 1970 میں اکثریت کا فیصلہ تسلیم نہ ہوا اور ملک ٹوٹ گیا اور 1977 میں الیکشن میں دھاندلی کا شور اٹھا اور نتیجے میں 11 سال مارشل کا تحفہ ملا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد ٹھہراؤ آتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ’2018 میں چار دن بعد الیکشن نتائج کا اعلان ہوا۔ اس وقت کا نعرہ 35 پنکچر تھا اور آج کا فارم 45۔

انہوں نے تحریکِ انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن نشستوں پر آپ جیتے ہیں وہاں تو منصفانہ الیکشن ہوئے ہیں اور جہاں آپ کے مخالفین کو کامیابی ملی وہاں دھاندلی زدہ انتخابات ہوئے ہیں۔ تو ایسا نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس الیکشن کمشنر نے پنجاب اور باقی پاکستان میں انتخابات کرائے ہیں کیا اسی نے خیبر پختونخوا میں الیکشن نہیں کرائے؟

ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کو بچانے اور اس کے دفاع کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کو مشورہ ہے کہ وہ سیاسی حریف جے یو آئی (ف) سے ملاقات کر سکتی ہے تو اسے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے بھی بات کرنی چاہیے۔

عرفاق صدیقی نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں تو کسی سے ہاتھ نہیں ملاتے اور اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو بھی یہی کرتے ہیں۔ کیا جمہوریت اس طرح چلتی ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش پر تنقید

جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں مکمل ناکام رہا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ناکامی تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

منگل کو سینیٹ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق نے کہا کہ انتخابات کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ جعلی انتخابات سے جعلی حکومت ہی بنے گی۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس کی جزوی بندش پر سینیٹر مشتاق نے کہا کہ ملک میں تین روز سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس بند ہے، دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال کالی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند کرنا عوام کے حقوق پر ڈاکا ہے، تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی سے اجتناب کر کے انہیں بحال کیاجائے۔

سینیٹر مشتاق نے کہا ہے کہ الیکشن کے دن انٹرنیٹ سروس بند کرنے سے معلوم ہوا کہ الیکشن صاف اور شفاف نہیں۔’الیکشن کمیشن معافی مانگے اور چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں۔ قوم کا جو 50 ارب روپے اس الیکشن پر خرچ ہوا ہے وہ واپس وصول کیا جائے۔‘

دائیں:  طاہر بزنجو۔۔ بائیں سینیٹر مشتاق احمد: فائل فوٹو
دائیں: طاہر بزنجو۔۔ بائیں سینیٹر مشتاق احمد: فائل فوٹو

انہوں ایک بااختیار عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا۔’بااختیار عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو چاروں صوبوں اور پورے ملک میں فارم 45 کے حوالے سے تحقیقات کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چار دنوں سے پاکستان میں ٹوئٹر بند ہے اور یہ اس لیے بند ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آپ خوفزدہ ہیں۔

ادھر سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں چن چن کر حقیقی عوامی نمائندوں کو ہرایا گیا اور صوبے میں دوبڑی جماعتوں کی آشیرباد سے ڈرگ لارڈ اور زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کو اسمبلی تک پہنچایا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عدلیہ کو حق تھا کہ وہ پی ٹی آئی کا نشان چھینے؟ ایسے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں ملک میں استحکام آئے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے مسئلے کو التوا میں ڈالنےکے لیے یہ سب کیا گیا ہے۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر شفیق ترین نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔ دھاندلی کی انکوائری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیڑھ ارب روپے میں تین نشستوں کا سودا ہوا، اس کی تحقیقات کی جائے۔

سینیٹر شفیق نے کہا کہ چمن میں تین مہینے سے دھرنا جاری ہے اور ہماری پارٹی کو اس لیے ہرایا گیا کہ ہم نے دھرنے کی حمایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں تھا جن لوگوں نے الیکشن کروائے سارا اختیار ہی ان کا تھا۔

تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ انتخابات میں پاکستان کی عوام نے صاف فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مانے یا نہ مانے عوام نے فیصلہ بانی چیئرمین تحریک انصاف کے حق میں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی گئی، گرفتاریاں کی گئیں۔ الیکشن سے چند دن پہلے ہم سے ہمارا انتحابی نشان لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں