قومی اسمبلی میں شور شرابا، اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی

سنی اتحاد کونسل کے ارکان کا اجلاس کے دوران سپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج، نعرے بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی 16 ویں قومی اسمبلی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔

16ویں قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت سوا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے سپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، جس پر سپیکر نے انہیں متنبہ کیا کہ پہلے حلف لیں گے، پھر بات ہو گی۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا، تاہم اس دوران ایوان میں شدید شور شرابا رہا، جس پر سپیکر اسمبلی نے اظہارِ برہمی کیا۔ حلف لینے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ رکن اسمبلی بننے کے لئے پہلے دستخط کر لیں، پھر بات کریں گے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے عبد العلیم خان کو رول آف ممبرپر دستخط کرنے کے لیے بلایا گیا تو سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی حمایت میں نعرے بازی کی گئی۔ اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی اور سردار اختر مینگل بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ تقریب حلف برداری کے بعد اراکین حاضری رجسٹر پر اپنے دستخط کئے۔

اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ لیگی اراکین کی جانب سے بھی نوازشریف کی آمد پر نعرے بازی کی گئی، لیگی ارکان نے شیر آیا، شیر آیا کے نعرے لگائے، مہمانوں کی گیلری میں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز، اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب اور آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھیں۔

اراکین اسمبلی کی حلف برداری اور رول آف ممبرز پر دستخط کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کی کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی اور رہنما تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمر ایوب، بیرسٹر گوہر اور رہنما مسلم لیگ (ن) خواجہ آصف کو ایوان سے خطاب کا موقع دیا۔

تاہم خواجہ آصف کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین کا شور شرابہ جاری رہا، اسپیکر قومی اسمبلی نے اراکین کو خاموش کرانے کی کوشش کی۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ اس اسمبلی کا پہلا دن ہے، اچھی روایات قائم کریں، آج آپ شور شرابا کر رہے ہیں، کل آپ کی بات پر شور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ شور شرابا ہوا تو کوئی بات نہیں کر سکے گا، یہ پاکستان کی قومی اسمبلی ہے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

تقریب حلف برداری کے بعد دوسرا مرحلہ اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا چناؤ ہو گا اور پھر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔

موجودہ قومی اسمبلی 336 ارکان پر مشتمل ہے جس میں سے 266 نشستوں پر ارکان براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ باقی ارکان مخصوص نشستوں پر ایوان کا حصہ بنتے ہیں۔

وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی تین مارچ کو جمع ہوں گے، چار مارچ کو قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی اور چار مارچ کو ہی وزیر اعظم کا اپنے عہدے کےحلف لینے کا امکان ہے۔

شہباز شریف کو دوسری بار وزیراعظم بننے کے لیے 169 ووٹ درکار ہیں جبکہ اس وقت مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کو 200 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں