پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، اعلامیہ جاری

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی آخری قسط جاری کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ آخری جائزہ مذاکرات کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کر دیا جس کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

پاکستان نے نئے وسط مدتی قرض پروگرام کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے، جس پر آئندہ ماہ مذاکرات ہوں گے، نئے قرض پروگرام کے تحت ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے گا۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے، رواں سال مہنگائی مقررہ حکومتی ہدف سے زیادہ رہے گی، حکومت پاکستان نے بجلی اور گیس ٹیرف کی بروقت ایڈجسٹمنٹ اور رواں مالی سال گردشی قرضے میں اضافہ روکنے کی یقین دہانی کروائی ہے، امید ہے کہ نئی منتخب حکومت معاشی اہداف پر کاربند کرے گی۔ پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان آخری جائزہ مذاکرات کامیاب ہو گئے۔

بدھ کو آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں مذاکرات کی کامیابی کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے قرض کی آخری قسط کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر جاری ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔ پاکستان کو دو اقساط کی مد میں آئی ایم ایف سے ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو آخری قسط جاری کی جائے گی، آخری قسط کے بعد پاکستان کو موصول شدہ رقم بڑھ کر تین ارب ڈالرز ہو جائے گی، آخری قسط ملنے کے ساتھ ہی تین ارب ڈالر کا قلیل مدتی قرض پروگرام مکمل ہو جائے گا۔

اعلامیے میں آئی ایم ایف نے باقی مالی سال معاشی بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے، معاشی اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنانسنگ مل رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ رواں سال مہنگائی مقررہ حکومتی ہدف سے زیادہ رہے گی، حکومت کو معاشی بحالی کے لیے اصلاحات جاری رکھنی چاہیے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان نے بجلی اور گیس ٹیرف کی بروقت ایڈجسٹمنٹ اور رواں مالی سال گردشی قرضے میں اضافہ روکنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ نو منتخب حکومت نے ٹیکس نیٹ (ٹیکس دہندگان کی تعداد) بڑھانے اور مہنگائی کم کرنے کے کے لیے اقدامات اٹھانے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔

علاوہ ازیں حکومت نے آئی ایم ایف کو ایکسینچ ریٹ مستحکم رکھنے اور فاریکس مارکیٹ میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔ اعلامیہ میں آئی ایم ایف نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی منتخب حکومت معاشی اہداف پر کاربند کرے گی، توقع ہے کہ پرائمری بیلنس 401 ارب روپے تک رہے گا اور پرائمری بیلنس معیشت کا 0.4 فیصد رہے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں نئے قرض کی شرائط بھی سامنے آ گئی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان نے نئے وسط مدتی قرض پروگرام کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے، جس پر آئندہ ماہ مذاکرات ہوں گے۔آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا کہ نئے قرض پروگرام کے تحت ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے گا، ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو بہتر بنایا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق توانائی شعبہ کی پیداواری لاگت وصول کی جائے گی، بجلی کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کا نظام بہتر کیا جائے گا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی انتظامیہ کو بہتر کیا جائے گا ۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ فاریکس مارکیٹ میں شفافیت لائی جائیگی، خسارے کا شکار سرکاری اداروں میں گورننس کا نظام بہتر کیا جائے گا۔

#/S

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں