سعودی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد، ہوائی اڈے پر شاندار استقبال

وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان کے دورے کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینے اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری کو مثبت ترغیب دینا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ نور خان ایئر بیس چکلالہ پہنچنے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔

سوموار کو موسم کی خرابی کے باعث سعودی وزیر خارجہ کا طیارہ دو گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد اسلام آباد پہنچا۔ اس موقع پر پاکستان میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

تاہم پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی وفد میں شامل دیگر شخصیات چند گھنٹوں بعد پاکستان پہنچیں گی۔ اس وفد میں وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن عبدالمحسن الفضلی، وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر ابراہیم الخورائے وفد میں شامل ہوں گے۔

سعودی عرب کے سرمایہ کاری کے اسسٹنٹ منسٹر ابراہیم یوسف المبارک بھی وفد کا حصہ ہیں۔ سعودی عرب کے وفد کے دیگر ارکان میں شاہی دیوان اور دیگر شعبوں کی معزز شخصیات اور محکموں کے اعلی حکام شامل ہیں۔

سعودی وفد صدر آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ہم منصب وزرا سمیت آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور خصوصی سرمایہ کاری سہولیاتی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی اپیکس کمیٹی سے ملاقاتیں کرے گا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ کا دورہ بنیادی طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعوی عرب کے دوران ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ معاشی تعاون کو بڑھانے کے لیے طے پانے والے مفاہمت پر پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے ہو رہا ہے۔

سات اپریل ہی کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان مکہ مکرمہ کے الصفا پیلس میں ہونے والی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’دونوں رہنماؤں نے پاکستان میں پانچ ارب ڈالر مالیت کے نئے سعودی سرمایہ کاری پیکج کے پہلے فیز کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

فارن آفس فوٹو

وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق ایک ہفتے میں سعودی وفد کا پاکستان آنا دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ذہنی ہم آہنگی، باہمی اعتماد و تعاون اور دونوں ممالک کی ترقی کے یکساں عزم کا مظہر ہے۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے (6 تا 8 اپریل) دورہ سعودی عرب کے ایک ہفتے بعد سعودی عرب کا اعلی سطح وفد پاکستان آ رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق سعودی وفد سرمایہ کاری کے اگلے مراحل اور عمل درآمد کے امور پر مشاورت کرے گا۔ زراعت، تجارت، توانائی، معدنیات، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبوں میں سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے، ریکوڈیک منصوبے میں سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے امور زیرغور آئیں گے۔ اس دورے کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، مشترکہ منصوبوں کے آغاز اور نئے امکانات کی راہیں ہموار ہوں گی

واضح رہے کہ معاشی مشکلات پر قابو پانے میں سعودی عرب پہلے بھی پاکستان کی مدد کرتا آیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان مکہ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران دوطرفہ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے سے متعلق ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل یعنی خصوصی سرمایہ کاری سہولیاتی کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی تھی جس کا مقصد خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک بالخصوص مملکت سعودی عرب سے سرمایہ کاری کو عمل کو آسان اور تیز بنانا ہے۔

سعودی عرب کے اعلی سطحی وفد کی آمد نہ صرف ایس آئی ایف سی کے مقاصد کے حصول کو آگے بڑھائیں گے بلکہ پاکستان کی پہلے سے بہتر ہوتی معاشی صورتحال میں مزید تیزی اور اعتماد لانے کا بھی باعث بنیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں