پنجاب پولیس میں خواتین کی پاسنگ آؤٹ پریڈ، مریم نواز کی وردی میں شرکت

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خواتین کانسٹیبلز کی ایک پاسنگ آؤٹ تقریب میں پولیس کی وردی پہنے شرکت کی، جس کے بعد انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا یہ وردی پہننا ضوابط کی خلاف ورزی نہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستانی صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اس وقت سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئیں، جب سوشل میڈیا پر ان کی پولیس کی وردی میں تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں۔ جہاں ایک طرف ان کے اس عمل کو ان کی جماعت اور کئی سوشل میڈیا صارفین نے سراہا، وہیں کئی دیگر صارفین اور اپوزیشن رہنماؤں نے ان پر تنقید بھی کی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ن لیگ کی پوسٹس کے مطابق مریم نواز نے جمعرات کے روز پولیس کی وردی پہن کر ایک پولیس ٹریننگ کالج میں خواتین کانسٹیبلز کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں پہلی بار پولیس کی وردی زیب تن ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، "جب میں نے یہ پولیس یونیفارم پہنا تو مجھے یہ احساس ہوا کہ چاہے وہ چیف منسٹر کی کرسی پہ بیٹھنا ہو ، چیف منسٹر کا حلف لینا ہو یا پولیس کا یونیفارم ہو، یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے، اور مجھے پتہ ہے آپ کو احساس ہے کہ یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔"

انہوں نے کہا کہ وہ بطور وزیر اعلیٰ فیصلے کرتی ہیں، جن پر عمل درآمد پولیس کا کام ہے، اور اس لحاظ سے پولیس کی ذمہ داری 'زیادہ بڑی‘ ہے۔

پاس آؤٹ ہونے والی خواتین پولیس اہلکاروں کو مبارک باد دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا، "مجھے خواتین پولیس اہلکاروں کو وطن کی حفاظت پر مامور دیکھ کر ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے۔"

مریم نواز کے پولیس کی وردی پہننے کو مختلف حلقوں، بالخصوص اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے کے ساتھ ساتھ حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے جمعرات کو ایوان سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت 'غیر سنجیدہ‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ کیا ہو رہا ہے ملک میں؟ ہم لوگ مذاق بنا رہے ہیں یہاں پہ۔ دنیا ہمیں کس طرح دیکھ رہی ہے؟"

مقامی میڈیا کے مطابق لاہور کے ایک وکیل نے ایک مقامی عدالت میں مریم نواز کے خلاف پولیس کی وردی پہننے کے حوالے سے مقدمہ دائر کرنے کی درخواست بھی جمع کرائی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج مظفر نواز ملک نے درخواست پر سماعت کی، درخواست آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مریم نواز نے پولیس آفیشل کی وردی پہنی، قانون کے مطابق کوئی بھی شخص ریاستی اداروں کی وردی نہیں پہن سکتا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ پولیس کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف درخواست دی مگر کارروائی نہیں ہوئی، عدالت پولیس کی وردی پہننے پر مریم نواز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

بعد ازاں عدالت نے مریم نواز کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی اور پولیس یونیفارم پہننے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر پولیس حکام سے 29 اپریل کو جواب طلب کر لیا۔

تاہم پنجاب پولیس نے ایکس پر ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ صوبائی پولیس کے ضوابط کے مطابق مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ، پولیس کی وردی پہن سکتی ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان کے اس عمل کو سراہا اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں