پاکستان کا غزہ میں اسرائیل کے 'وحشیانہ' فوجی حملے پر اظہارِ تشویش

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا فلسطین کی اقوامِ متحدہ میں شمولیت کی مکمل حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے "وحشیانہ فوجی حملے" پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور فلسطین میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

ڈار غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر موجود غصے کے پس منظر میں اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ غزہ جنگ میں یہودی ریاست نے تقریباً 35,000 فلسطینیوں کو مار ڈالا ہے اور گنجان آباد علاقے میں ہسپتالوں، سکولوں اور رہائشی محلوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم مسائل کے ایک سلسلے پر اپنے ملک کا نقطۂ نظر پیش کرنے کی غرض سے بدھ کے روز گیمبیا پہنچے جن میں غزہ میں جنگ اور ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال شامل ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے رپورٹ کیا، "نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اتوار کے روز غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیل کے وحشیانہ فوجی حملے پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔"

نیز اے پی پی نے کہا، "انہوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی اور اسرائیلی افواج کے مظالم کے پس منظر میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے مل کر کام کریں۔"

ڈار نے شرقِ اوسط میں دو ریاستی حل کے لیے عمل دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطین کو اقوامِ متحدہ کے مکمل رکن کی حیثیت دینے کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔

پاکستانی نائب وزیرِ اعظم نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک قابلِ عمل، متصل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔

ڈار نے دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام دشمن جذبات اور واقعات میں اضافے پر بھی بات کی، بالخصوص گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کرنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی بنائے تاکہ مل کر گستاخانہ، اسلام مخالف اور اسلام کے خوف پر مبنی مواد کے لیے ان کے ضابطے کی پالیسیوں سے ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

اے پی پی نے کہا، "ڈار نے ہندوستان میں جاری لوک سبھا انتخابات کے دوران وہاں کے سیاسی رہنماؤں کی پاکستان مخالف بیان بازی اور اسلام فوبک بیانیے میں اضافے کی بھی شدید مذمت کی جو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ تھا۔"

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے وجودی خطرے سے نمٹنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرے جس کی وجہ سے 2022 میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب آیا جس میں 1700 سے زائد افراد ہلاک اور مجموعی طور پر 33 ملین سے زیادہ متأثر ہوئے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ڈار نے گیمبیا کے صدر اور ترکی اور آذربائیجان کے ہم منصبوں سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں