پاکستان کے کھانے کے مرکز کراچی میں ہندوستانی وڑا پاؤ

پاو بھاجی کا ذائقہ کھانے کے شوقین افراد کے لیے مرکزِ توجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کویتا سولنکی مارکیٹنگ ایگزیکٹو کے طور پر برسوں تک کام کر چکی تھیں جب نوجوان ہندو خاتون نے گذشتہ اکتوبر میں اپنی ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کے مالیاتی دارالحکومت کراچی کے کنٹونمنٹ ایریا میں دو مرغوب ہندوستانی سٹریٹ فوڈز فروخت کرنے والی فوڈ کارٹ قائم کی۔

اگرچہ جنوبی ایشیائی ملک پاکستان میں کراچی کو کھانوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہزاروں ریستورانوں اور گلیوں کے سٹالز پر ہر قسم کے کھانے اور پکوان مل سکتے ہیں لیکن وڑا پاؤ اور پاو بھاجی کو تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔

وڑا پاؤ میں ایک گہرے تلے ہوئے آلو کے پکوڑے اور چٹنی کو ڈبل روٹی والے بن کے اندر رکھا جاتا ہے اور اسے درمیان سے کاٹ کر دو حصے کر دیئے جاتے ہیں۔ پاو بھاجی مصالحے دار سبزی کا ایک گاڑھا سالن ہوتا ہے جسے نرم مکھن دار ڈبل روٹی کے رول کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ دونوں پکوانوں کی ابتدا بھارتی ریاست مہاراشٹر سے ہوئی تھی۔

کویتا سولنکی کا سٹال "کویتا باجی کا ہندوستانی کھانا" کے نام سے معروف ہے۔ انہوں نے اپنے سٹال پر ایک گاہک کو کھانے کی پلیٹ دیتے ہوئے بتایا: "میں گوگل پر تلاش کرتی تھی کہ مجھے پاو بھاجی اور وڑا پاؤ کہاں سے مل سکتا تھا۔ تو میں نے سوچا کہ جو چیز شہر میں ملنا بہت مشکل ہے، کیوں نہ اس سے آغاز کیا جائے۔"

 کویتا سولنکی (درمیان میں) 20 اپریل 2024 کو کراچی، پاکستان میں اپنے کھانے کے سٹال پر گاہکوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ (کویتا ایم سولنکی/فیس بک)
کویتا سولنکی (درمیان میں) 20 اپریل 2024 کو کراچی، پاکستان میں اپنے کھانے کے سٹال پر گاہکوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ (کویتا ایم سولنکی/فیس بک)

سولنکی نے کہا کہ سٹال نے کھلنے کے کچھ ہی عرصے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا۔

انہوں نے کراچی کے ایک مشہور ریستوران کا نام لیتے ہوئے کہا، "اگر آپ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، چلو آج نہاری کھاتے ہیں تو آپ کو معلوم ہے کہ آپ زاہد نہاری پر جائیں گے۔" یہ ریستوران ہلکی آنچ پر پکے ہوئے بڑے گوشت کی ڈش نہاری پیش کرتا ہے۔ "سبزی خور آپشنز کے لیے لوگ کویتا باجی کا نام لیں گے۔ ٹھیک ہے، آئیے کویتا باجی کے سٹال پر چلتے ہیں۔"

سولنکی نے کہا کہ لوگ ان کے سٹال کی طرف نہ صرف اس وجہ سے متوجہ ہوئے کہ وڑا پاؤ اور پاو بھاجی شہر میں کہیں اور تلاش کرنا مشکل تھا بلکہ کھانے کی اصل ترکیب اور ذائقہ کی وجہ سے بھی۔

انہوں نے کہا، "ہم باقاعدہ گھر پر بنا ہوا کھانا دے رہے ہیں، کچھ بھی مصنوعی نہیں۔ ہم گھر میں جو کھاتے ہیں وہی یہاں لا رہے ہیں۔"

سولنکی جو کبھی ہندوستان نہیں گئیں اور نسلی طور پر گجراتی ہیں، نے کہا کہ انہوں نے یوٹیوب ویڈیوز سے پاو بھاجی اور وڑا پاؤ بنانا سیکھا: "ایک بار جب ہم نے اسے گھر پر آزمایا تو ہمیں یہ پسند آیا۔ اس لیے گھر میں ہر ویک اینڈ کی طرح ہم اسے اپنے لیے بنائیں گے۔"

کاروباری خاتون نے کہا، یہ سٹال ان لوگوں میں بھی مقبول ہے جو سبزی کے متبادل اور گوشت پر مبنی پکوانوں سے ذائقہ میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اور ان کے گاہکوں میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔

ایک باقاعدہ گاہک فارماسسٹ ماہا احمد نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ کچھ منفرد پکوان ہیں جو یہ پیش کرتے ہیں اور یہ بہت صاف ستھرے، بہت لذیذ اور بہت اچھے ہیں۔"

ایک پرائیویٹ فرم میں کام کرنے والے سکندر علی نے بتایا کہ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنے کے بعد وہ سولنکی کے سٹال کی طرف متوجہ ہوئے۔

علی کی والدہ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر آئی تھیں اور وہ ان سے اس سٹریٹ فوڈ کے بارے میں سن کر بڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا،

"میری شدید خواہش تھی کہ میں کویتا باجی کے ہاں آ کر وڑا پاؤ چکھوں۔ تو آج میں نے فیصلہ کیا کہ میں یہاں آ کر وڑا پاؤ کھاؤں۔"

انہوں نے مزید کہا، "میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس کا ذائقہ بالکل حیرت انگیز ہے۔ مجھے انڈیا جا کر وڑا پاؤ کھانے کی بہت خواہش تھی۔ وہی ذائقہ مجھے یہاں پاکستان میں، کراچی میں مل گیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں