امریکہ، صوبہ سندھ کا پاکستان میں تپ دق سے نمٹنے کے لیے 9 ملین ڈالر کے اقدام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم اور سندھ کی وزیرِ صحت و آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے جمعرات کو ایک مشترکہ اقدام کا آغاز کیا جس کا مقصد تپِ دق (ٹی بی) سے نمٹنا ہے جو پاکستان میں صحت کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ تین سالوں میں ٹی بی کے کیسز میں 42.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 2023 میں 47,000 لوگ اس بیماری سے مر چکے ہیں۔ اس طرح سکریننگ اور علاج کے لیے ناکافی وسائل کی وجہ سے 2035 تک اس بیماری کو ختم کرنے کے حکومتی منصوبوں کو نقصان پہنچا ہے۔

قابلِ انسداد اور قابلِ علاج ہونے کے باوجود یہ دنیا کا سب سے بڑا قاتل متعدی مرض ہے جو 10.6 ملین لوگوں کو بیمار کرتا اور سالانہ 1.3 ملین جانیں لیتا ہے۔ ٹی بی کی زیادہ شرح والے ممالک میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔

امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) امریکی حکومت کی طرف سے ٹی بی کے خاتمے کی عالمی کوششوں کی قیادت کرتی ہے۔ یہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے، مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو ترجیح دیتی ہے اور پائیدار اور مؤثر نتائج کو یقینی بنانے میں اپنے اہم کردار کو تسلیم کرتی ہے۔

امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا، "یو ایس ایڈ کی مالی اعانت سے چلنے والے نئے شروع کردہ پروگرام جس کا نام تپِ دق مقامی تنظیمی نیٹ ورک (ٹی بی-لون) ہے، یہ پانچ سالوں میں نو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔"

نیز کہا گیا، "اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو ٹی بی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ماہرین کی رہنمائی اور وسائل فراہم کرنا ہے۔ متأثرہ کمیونٹیز اور افراد کے ساتھ براہِ راست مشغولیت کے ذریعے یہ پروگرام مخصوص ضروریات پورا کرنے کے لیے حل تیار کرے گا۔ ٹی بی-لون سندھ میں ٹی بی کے مزید کیسز کا علاج اور اس بیماری سے متأثرہ افراد کی تعداد میں نمایاں کمی کرے گا۔

بلوم نے بیان میں کہا، "تپِ دق پاکستان میں لاکھوں افراد کو متأثر کرنے والی صرف ایک بیماری نہیں۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جو زندگیوں، معاش اور برادریوں کو درہم برہم کر دیتی ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "پاکستان ان ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جہاں ٹی بی کی سب سے زیادہ شرح ہے لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نو ملین ڈالر کے اس اہم اقدام کے ساتھ ان حالات کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ ٹی بی کے خاتمے میں مدد کے لیے ماہرین کی رہنمائی اور وسائل فراہم کرے گا جو سندھ کے باحوصلہ لوگوں کے لیے ہماری مسلسل وابستگی کی مثال ہے۔"

ڈاکٹر پیچوہو نے امریکی حکومت کی جانب سے جاری تعاون کی تعریف کی اور صحت کی خدمات کو بڑھانے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

صحت کے سنگین چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "ہمیں یقین ہے کہ صحت کے نازک چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہماری مشترکہ کوششیں سندھ کے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں گی۔"

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2020 میں ٹی بی کے 272,990 کیسز تھے جو 2023 میں بڑھ کر 474,981 ہو گئے جن میں علاج سے شفایابی کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس بیماری سے 2021 میں 48,000، 2022 میں 46,000 اور 2023 میں 47,000 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سال اپریل میں عرب نیوز کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کے پاس اس وقت ٹی بی کے کل 608,000 کیسز رجسٹرڈ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں