میری پارٹی سے فروری کا الیکشن اور عوامی مینڈیٹ چھینا گیا : عمران خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران ملک کی اعلی ترین عدالت کے سامنے مبینہ الیکشن چوری کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا ' عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اب تک کی ڈکیتی تھی۔'

سابق وزیر اعظم عمران خان پچھلے تقریبا ایک سال سے قید میں ہیں۔ انہیں گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی طرف سے بیسیوں مقدمات کا سامنا رہا ہے۔ اس لیے ایک مقدمے سے ضمانت کے بعد دوسرے میں دھر لیے جاتے رہے ہیں۔ یہی حال ان کی جماعت کے کئی رہنماؤں کے ساتھ کیا گیا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ نے ان کی دائر کردہ ایک اپیل پر سماعت مقرر کی تو پہلی بار انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا موقف بیان کرنے کا عوامی سطح پر موقع مل گیا۔

عمران خان نے کہا ' فروری کے عام انتخابات میں انسانی حقوق کی انتہائی خلاف ورزی روا رکھی گئی۔ ان کی سیاسی جماعت کو اس کے سیاسی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا اور انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ اس صورت حال میں ان کے بقول انہیں فوجی شناخت کے سب سے اہم شہر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے انتخابی عمل میں پاکستان تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھینے جانے کے باوجود عمران خان کی جماعت سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ مگر مسلم لیگ نواز اپنے دوسرے اتحادیوں کے ساتھ اشتراک سے اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔

عمران خان کو عدالتی کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ گفتگو کا بھی موقع ملا ۔ کیونکہ جیل سے ہونے والی اس ویڈیو لنک پر سماعت کو عوام کے لیے کھلا نہیں رکھا گیا ہے۔

یاد رہے پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس اوپن کورٹ اور براہ راست نشریات کے ساتھ مقدمات کی سماعت کے کٹر حامی ہیں تاکہ سب کارروائی عوام کے سامنے ہو ۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی خود کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں