صدر مملکت آصف علی زرداری نے فنانس بل 2024-25 کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

صدر مملکت آصف زرداری نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر دستخط کر دیئے، فنانس بل کی دستخط شدہ کاپی پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی۔

صدر مملکت نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آرٹیکل 75 کے تحت فنانس بل کی منظوری دی۔ گذشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے فنانس ترمیمی بل 2024 صدر مملکت آصف زرداری کو بھجوایا تھا۔

صدر آصف زرداری کے دستخطوں کے ساتھ ہی بل قانون بن گیا جبکہ فنانس بل کی دستخط شدہ کاپی پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی۔ صدر کے دستخطوں کے بعد نیا وفاقی بجٹ یکم جولائی [بروز سوموار] سے نافذ العمل ہو گا۔

وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 877 ارب روپے ہے۔ فنانس بل کے تحت مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں رد وبدل کیا گیا ہے۔ فنانس بل کے لاگو ہونے سے 200 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس لاگو ہوں گے۔

وفاقی حکومت نے فنانس بل میں ترامیم کے ذریعے رہائشی اور کمرشل عمارتوں کی تعمیر اور فروخت پر ٹیکس عائد کر دیا ہے جبکہ فارم ہاؤسز پر کیپٹل ویلیو ٹیکس بھی ادا کرنا پڑے گا اور گاڑیوں کے انجن آئل پر بھی پانچ فیصد لیوی عائد کر دی گئی ہے۔

ترامیم کے تحت ایک کروڑ روپے سالانہ آمدن پر 10 فیصد سرچاج عائد کر دیا گیا ہے جبکہ سول و فوجی ملازمین کو جائیداد پر ایڈوانس ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

حکومت نے فنانس بل میں ترامیم کے ذریعے بیرون ملک سفر کے لیے ایئر ٹکٹس پر ٹیکس شرح میں اضافہ جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینل پر ٹیکس چھوٹ کی شرح کو برقرار رکھا ہے۔

اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق پیپلز پارٹی کی ترمیم کو بھی کثرت رائے سے منظور سے کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں