پاکستان میں پولیو کیسز میں اضافے کے درمیان 41 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز
گذشتہ ہفتے پولیو کے تین کیسز کے ساتھ اس سال کل تعداد آٹھ ہو گئی
سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ پاکستان نے پیر کو انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ ملک کے متعدد اضلاع میں 9.5 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔
یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب پاکستان میں گذشتہ ہفتے تین افراد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی اطلاع ملی۔ پاکستان کے جنوب مغربی ضلع قلعہ عبداللہ میں دو کیسز سامنے آئے جبکہ ایک بچہ جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں اس مرض کا شکار ہوا۔
ترقی یافتہ ممالک میں پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن ہندوستان، نائیجیریا، افغانستان اور پاکستان کے کچھ حصوں میں یہ بدستور برقرار ہے۔ یہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو اعصابی نظام پر حملہ کرتی ہے اور مکمل فالج کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ پولیو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متأثر کرتا ہے لیکن کوئی بھی شخص جسے ویکسین نہ دی گئی ہو، وہ کسی بھی عمر میں اس بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے اتوار کو رپورٹ کیا، "مختلف مدت کی انسدادِ پولیو مہم کل (پیر) سے ملک کے اکتالیس اضلاع میں شروع ہوگی۔ خصوصی مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 9.5 ملین سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔"
اے پی پی نے کہا، یہ مہم بلوچستان کے 16، پاکستان کے شمال مغربی خیبرپختونخوا (کے پی) کے 11، سندھ کے آٹھ اور صوبہ پنجاب کے پانچ اضلاع میں چلائی جائے گی۔ اسلام آباد کی مخصوص یونین کونسلوں میں بھی گھر گھر پولیو مہم چلائی جائے گی۔
اے پی پی نے کہا، "یہ مہم بلوچستان میں بڑھتے ہوئے پولیو کیسز کے پیشِ نظر شروع کی جا رہی ہے۔"
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے کمانڈر محمد انور حق نے کہا، یہ مہم ان علاقوں میں چلائی جائے گی جہاں پولیو وائرس "مسلسل موجود" ہے۔
اے پی پی نے کہا، "انہوں نے والدین سے گذارش کی کہ وہ اس مہم میں شامل ہونے اور بچوں کو قطرے پلانے کو اپنا قومی فرض سمجھیں۔"
پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے کی کوششوں میں کئی پاکستانیوں بالخصوص قدامت پسند قبائلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے اس عقیدے کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوئی ہے کہ یہ دوا ایک مغربی مہم ہے جس کا مقصد ملک کی آبادی میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کا خاتمہ کرنا ہے یا مغربی جاسوسوں کو آڑ فراہم کرنا ہے۔
2012 میں مقامی طالبان نے بعض قبائلی اضلاع میں پولیو کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے پر پابندی کا حکم دیا تھا۔ اس سال کم از کم 11 پولیس اہلکار ویکسینیشن مہم کے دوران حفاظتی ڈیوٹی کرتے ہوئے مارے گئے ہیں جنہیں اکثر دہشت گرد نشانہ بناتے ہیں۔ کئی عشروں کے دوران درجنوں پولیو کارکنان بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
2011 میں امریکی سپیشل فورسز نے پاکستان کے اندر چھاپہ مارا جس میں 2001 میں امریکہ پر 11 ستمبر کے حملے ترتیب دینے والے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس سے بھی پولیو کے قطرے پلانے کے بارے میں عوام کے خدشات میں اضافہ ہوا۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر پر ڈی این اے کے نمونے جمع کرنے کی غرض سے ایک جعلی ویکسینیشن مہم کا استعمال کرنے کا الزام تھا جس کے بارے میں سی آئی اے کا خیال تھا کہ بن لادن کی شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ وہ ڈاکٹر اب بھی پاکستان میں جیل میں قید ہے۔