روس کی پاکستان کو توانائی کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے آستانہ میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی اور بات چیت کے دوران پاکستان کو خام تیل سمیت توانائی کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی پیشکش کی۔

پوتین اور شہباز علاقائی سربراہی اجلاس کے لیے قازقستان میں ہیں اور یہ ان کی دوسری ملاقات تھی۔ اس سے قبل ستمبر 2022 میں سمرقند میں ہونے والے ایس سی او اجلاس کے دوران بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان مغرب کے دباؤ کے باوجود اپنی خارجہ پالیسی کو متنوع بنانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر روس کے ساتھ بھی قریبی تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روس کے صدر ولادی میر پوتین کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپ سے ملاقات کر کے اچھا لگا ہے۔ وزیراعظم نے صدر پوتین کو دوبارہ روس کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیات میں روس مزید ترقی کرے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روس کے صدر ولادی میر پوتین نے تجارت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی جغرافیائی سیاسی تبدیلی ہمارے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، دونوں ممالک کے تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں، ہمیں مستقبل میں اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات ہیں، پاکستان اور روس عرصہ دراز سے دوست ممالک ہیں، ہمیں مستقبل میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، پاکستان کے روس کے ساتھ دیرینہ اور کاروباری تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں، میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم آپ کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور باہمی تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں جو اس وقت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری درخواست پر آپ نے پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا، روس سے تیل کے سپلائی ہمیں موصول ہوئی ہے ،ہم اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں اور کوئی جغرافیائی سیاسی تبدیلی ان تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور نہ ہی دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات ہمارے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ پرانے کاروباری روابط ہیں ،ہمیں مستقبل میں ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلی ملاقات میں بھی میں نے آپ سے ذکر کیا تھا کہ 60ء اور 70ء کی دہائی میں ہم نے ’بارٹر سسٹم‘ کے تحت تجارت کا آغاز کیا تھا اور ہم سابق سوویت یونین سے مشینری اور دیگر مصنوعات درآمد کرتے اور ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات درآمد کرتے رہے ہیں ، ہمیں مالیاتی اور دیگر بینکاری مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے، روس کے ساتھ بارٹر سسٹم کے تحت تجارت کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں جو پاکستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گی اور اس سے ہم بہت سے دیگر مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنی اور پاکستانی قوم کی طرف سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر روس کے صدر ولادی میرپوتین نے کہا کہ آپ سے دوبارہ مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے، دو سال پہلے ہم شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر سمرقند میں ملے تھے، ہم نے دو طرفہ امور کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کی بدولت دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے ۔ روس کے صدر نے کہا کہ توانائی اور زراعت کے شعبوں میں ہم اپنے تعاون کو بڑھا سکتے ہیں ، غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے۔

ملاقات کے بعد کریملن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بدھ کے روز وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران روسی صدر پوتین نے پاکستان کو توانائی کی مزید فراہمی کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان کے مطابق پوتین نے شہباز شریف کو بتایا کہ ''میں خاص طور پر دو اہم شعبوں، توانائی اور زرعی صنعت کے شعبوں، میں تعاون پر زور دینا چاہوں گا: ہم نے پاکستان کو توانائی کے وسائل کی فراہمی شروع کر دی ہے اور ہم سپلائی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔''

کریملن کے مطابق صدر پوتین نے شہباز شریف سے کہا کہ وہ ان سے مل کر ''بہت خوش'' ہیں۔ روسی صدر نے مزید کہا کہ ''آپ کی درخواست کے مطابق روس پاکستانی منڈی میں اناج کی سپلائی بڑھا کر پاکستان کی غذائی تحفظ میں مدد کے لیے سرگرم عمل ہے۔''

روسی صدر کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پوتین نے کہا، ''میں یہ نوٹ کرنا چاہوں گا کہ اس وقت سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کاروبار کی طرح دوستانہ جذبے سے ترقی کرتے رہے ہیں۔ ہم تجارت میں ترقی دیکھ سکتے ہیں اور اس شعبے میں امکانات بہت اچھے نظر آ رہے ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں