اماراتی ایوی ایشن ٹیم کا اسلام آباد، کراچی ائرپورٹس کے عالمی معیار پر اظہار اطمینان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (یو اے ای-جی سی اے اے) کی ٹیم کے مطابق پاکستان کے اسلام آباد اور کراچی کے ہوائی اڈوں پر ایوی ایشن سکیورٹی بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتی ہے۔ یو اے ای-جی سی اے اے نے ملک میں سکیورٹی پروٹوکول کو بہتر بنانے کے مقصد سے جمعے کو اپنا معائنہ مکمل کیا۔

جی سی اے اے کے ایک سینئر ڈائریکٹر عبداللہ الکعبی کے زیرِ قیادت متحدہ عرب امارات کا دو رکنی سرکاری وفد ملک میں ہوا بازی کی دو سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے گذشتہ ماہ پاکستان پہنچا تھا۔ یہ ایک ہفتہ طویل جائزہ اور معائنہ کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس پر ہوا۔ انہوں نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ جاری رکھنے سے قبل وفاقی دارالحکومت کا دورہ کیا۔

پاکستان کے ایوی ایشن پروٹوکول کو 2020 میں ایک سکینڈل کے بعد اہم جانچ پڑتال اور معائنے کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ سکینڈل یہ تھا کہ 860 فعال پائلٹس میں سے تقریباً 262 کے جعلی لائسنس حاصل کرنے کی اطلاع ملی جس کے نتیجے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) اور دیگر ایئرلائنز کے تقریباً 150 پائلٹس کو ڈیوٹی انجام دینے سے روک دیا گیا۔

یہ انکشاف کراچی میں پی آئی اے کی پرواز 8303 کے المناک حادثے کے بعد سامنے آیا جس کے نتیجے میں یورپی یونین اور دیگر خطوں میں پی آئی اے کے آپریشنز معطل ہو گئے اور حفاظتی معیارات اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات پر زور دیا گیا۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے الکعبی کے حوالے سے کہا، "سکیورٹی پروٹوکول بین الاقوامی معیارات اور مروجہ بہترین طریقوں کے مطابق ہیں۔ یو اے ای-جی سی اے اے کی ٹیم کا دورہ مکمل ہو گیا ہے۔"

بیان میں کہا گیا کہ دو رکنی وفد نے سامانِ تجارت لے جانے اور کھانا فراہم کرنے کی سہولیات کے علاوہ ہوائی اڈوں پر مسافروں اور سامان کی سکریننگ سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ مزید کہا گیا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات سے آنے والی براہِ راست پروازوں، گراؤنڈ ہینڈلنگ اور فلائٹ کے کارگو ایجنٹس کا بھی جائزہ لیا۔

ٹیم نے ہوائی اڈوں تک سکیورٹی کی رسائی اور ہوائی جہاز کے سکیورٹی چیک کا بھی جائزہ لیا۔ وفد کے اراکین نے سکیورٹی پروٹوکول پر اطمینان کا اظہار کیا اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، کارگو کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے کام کو سراہا۔

پی سی اے اے نے کہا کہ یو اے ای-جی سی اے اے کا دورہ اپنی نوعیت کا پہلا دورہ تھا اور اسے اس سال برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے کئے گئے جائزوں کے تسلسل قرار دیا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان عشروں پرانے برادرانہ تعلقات ہیں۔ کئی ایئر لائنز پاکستان کے بڑے شہروں مثلاً کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کو متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی، شارجہ اور دبئی سے ملانے کے لیے روزانہ متعدد پروازیں چلاتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں