سعودی عرب کے اہم ساحلی و کاروباری شہر جدہ میں 19 سے 21 اگست کے دوران ایک نمائش میں پاکستان کی متعدد کمپنیوں نے بھی شرکت کی اور بڑا ہی مثبت ریسپانس ملا ہے۔ اس نمائش میں شرکت سے امکان پیدا ہو گیا ہے کہ مملکت میں سیاحتی سرگرمیوں کے بے پناہ امکانات میں ان کمپنیوں کو بزنس مل سکتا ہے۔
جدہ میں منعقدہ نمائش میں پاکستان اور دنیا کے دوسرے ملکوں کی بہت سی کمپنیاں شریک ہوئیں۔ ان تمام کمپنیوں نے اپنی اپنی سیاحتی شعبے کے لیے مصنوعات اور خدمات کے لیے سٹال لگائے تھے۔
پاکستانی کمپنیوں کی طرف سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے متعلق جو مصنوعات بطور خاص رکھی گئی تھیں ان میں ہوٹلوں میں استعمال ہونے والی بیڈ شیٹس ، تولیے،گھرں اور کمروں میں استعمال کی دیگر اشیا شامل تھیں۔ سعودی عرب میں سیاحتی فروغ کے نتیجے میں ہوٹل انڈسٹریشز کے غیر معمولی ترقی پانے کا موقع ہے۔
پاکستانی نمائش کار محمد عاصم شاہ جوکہ بیڈ شیسٹس مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں انہوں نے اس نمائش میں کامیاب شرکت کے بارے میں بتایا کہ انہیں بہت مثبت اور شاندار ریسپانس ملا ہے۔ متعلقہ کمپنیوں کے حکام اور لوگوں نے ہم پاکستانی کمپنیوں کی مصنوعات میں بہت دلچسپی لی ہے۔ ہمیں کاروباری امکانات اور کئی روابط ملے ہیں۔ کئی کمپنیوں کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔'
واضح رہے ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل 2024 کی اکنامک امپیکٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے ' 2023 کے دوران سعودی عرب کا سیاحتی شعبہ 32 فیصد وسعت پایا ہے۔ سیاحت سے سعودی عرب کے مجموعی جی ڈی پی میں 118.4 ارب ڈالر صرف سیاحت سے ملے ہیں۔ سعودی عرب میں پچھلے سال 100 ملین سیاح سیاحتی غرض سے آئے۔ جو ہدف ویژن 2030 کے لیےطے تھا وہ سات سال پہلے حاصل ہو گیا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن کے مطابق20000 نئے ہوٹلوں کا قیام ہو گا اور ان میں50000 نئے کمرے ہوں گے۔ عاصم شاہ کے مطابق اس سے پاکستان کےمینو فیکچررز کو بہت سے مواقع ملیں گے ۔