وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بانی تحریک انصاف کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کو سب سے بڑی پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہماری مالی، اقتصادی اور سفارتی معاونت کی۔ اس کے بدلے سعودی حکومت نے ہم سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔
تونسہ شریف میں کچھی کینال منصوبے کی بحالی کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا مربی دوست، بھائی اور برادر ملک ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈا اور ملکی سلامتی سے کھیلنے والوں کے ہاتھ توڑ دے گی، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر حکومت میں پاکستان کی غیر مشروط مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ کچھی کینال منصوبے کی فزیبلٹی کا آغاز وزیر اعظم نوازشریف کے دور میں کیا گیا اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں کچھی کینال منصوبے کا بیڑا غرق کیا گیا۔ بغیر ٹینڈر کیے منصوبہ ٹھیکیداروں کے حوالے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھی کینال کی بحالی پر بلوچستان اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، وزیراعلیٰ بلاچستان کی ذاتی کاوشوں سے کچھی کینال کی بحالی کا مرحلہ مکمل ہوا۔ کچھی کینال منصوبے کے اصل محسن نواز شریف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف کے سب لوگ گواہ ہیں کہ کس بے دردی سے اس غریب قوم کا پیسہ برباد کیا گیا۔
شہباز شریف کے بہ قول کچھی کینال کو 2022 کے سیلاب سے بہت نقصان ہوا۔
’’کچھی کینال کے دوسرے مرحلے کو بھی مکمل کریں گے۔ منصوبے کے اگلے مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے وسائل فراہم کریں گے۔ کچھی کینال منصوبے کے اصل ہیرو نوازشریف ہیں جسے 2018 میں نوازشریف کے دور میں مکمل کیا گیا۔‘‘
سعودی عرب پر الزامات شرمناک ہیں: خواجہ آصف
ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی جانب سے سعودی عرب پر الزامات کو شرمناک قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل بشریٰ بی بی کا ایک بیان آیا ،ہمارے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی،مذہبی اور معاشی تعلقات ہیں، ہمارے 28 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے، کل تعلقات خراب کرنے کی نہایت گھٹیا اور غلیظ قسم کی کوشش کی گئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی سیاست کی کشتی ڈوب رہی ہے اس لیے یہ بیان دیا گیا، لیڈر شپ کیلئے بھابھی اور نندوں کے درمیان بھی کشمکش چل رہی ہے، اب اپنے آپ کو قائد کہنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، لوگوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ موروثی سیاست کی جاتی ہے، یہاں صرف موروثی سیاست کی جا رہی ہے بلکہ وارثوں میں لڑائی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے مذہبی دیوالیہ پن کا بھی مظاہرہ کیا گیا، یہ لوگ خود کو مذہب کا ٹھیکدار سمجھتے ہیں، بشریٰ بی بی اپنے آپ کو شریعت کہہ رہی ہیں، اللہ کی ذات کے علاوہ کسی ہستی کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں۔