یومِ پاکستان: دارالحکومت میں فوجی پریڈ کا انعقاد
ملک چیلنجز کا مقابلہ اور سرحدوں کی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے: صدر کا تقریب سے خطاب
پاکستان نے اپنا یومِ جمہوریہ (یومِ پاکستان) اتوار کو دارالحکومت میں ایک عظیم الشان فوجی پریڈ کے ساتھ منایا۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے موجودہ چیلنجز پر قابو پا لے گی۔
اتوار کی صبح ایوانِ صدر میں پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ دن ہر سال 23 مارچ کو مسلم لیگ کی طرف سے قراردادِ لاہور پیش کرنے کی یاد میں منایا جاتا ہے جس میں 23 مارچ 1940 کو مسلمانانِ ہندوستان نے اپنے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور تمام صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ پاکستان کی مسلح افواج کے تینوں دستوں -- برّی، بحریہ اور فضائیہ نے فوجی پریڈ میں حصہ لیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی صدر آصف علی زرداری نے اعتراف کیا کہ ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم پاکستان جدوجہد کرنے اور اپنی موجودہ مشکلات پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
زرداری نے پریڈ کے شرکاء سے کہا، پاکستان کو کئی جغرافیائی و سیاسی مسائل کا سامنا ہے لیکن ہماری بہادر مسلح افواج پاکستان کے عوام کے شانہ بشانہ بے شمار قربانیاں دے رہی ہیں۔ ہم اپنی سرحدوں، اپنی معیشت اور اپنی زراعت کو مستحکم کریں گے۔
تقریب میں زرداری کے علاوہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، مسلح افواج کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
تقریب میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے فلائی پاسٹ پیش کرکے ملک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ پاک فوج کے دستوں نے تقریب کے شرکاء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پریڈ میں مارچ پاسٹ بھی کیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے اس ہفتے کے اوائل میں اطلاع دی کہ گذشتہ سال یہ پروگرام اسلام آباد کے پریڈ ایونیو میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس سال یہ ماہِ رمضان کی بنا پر "محدود" پیمانے پر ایوانِ صدر میں منعقد ہوا۔
اس سال فوجی پریڈ ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے نبرد آزما ہے جو خاص طور پر ایران اور افغانستان کی سرحد سے متصل اس کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جاری ہے۔ علیحدگی پسند دہشت گردوں نے گذشتہ منگل کو ریلوے ٹریک کے ایک حصے پر بم حملہ کیا اور 400 سے زائد مسافروں کو لے کر پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر بولان کے پہاڑی علاقے میں یلغار کر دی تھی۔
یہ بحران اگلے دن حل ہو گیا جب مسلح افواج نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ایک کامیاب کارروائی کیا جس میں تمام 33 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ حتمی شمار کے مطابق حملے میں 23 فوجی، تین ریلوے ملازمین اور پانچ مسافر بھی جاں بحق ہوئے۔