پاکستان میں اس سال ماہ رمضان میں ایک دہائی کے دوران ریکارڈ دہشت گردانہ حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک پاکستانی تھنک ٹینک نے بتایا ہے کہ اس سال مقدس اسلامی مہینے رمضان کے دوران ملک میں پچھلی ایک دہائی کے سب سے زیادہ عسکریت پسندانہ حملے ہوئے۔

پاکستانی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے حال ہی میں جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اتوار کو ختم ہونے والے رمضان کے مہینے کے دوران ملک میں کم از کم 84 دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال رمضان کے دوران چھبیس حملے ہوئے تھے۔

یاد رہے ماضی میں کچھ عسکریت پسند گروپ رمضان کے دوران اپنے مسلح حملے روک دیا کرتے تھے، لیکن پاکستان میں حالیہ برسوں میں تشدد میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر 2022 میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی یکطرفہ طور پر ختم کر دی تھی۔ دوسری طرف بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی اپنی صلاحیت بڑھا لی ہے۔ ان دونوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

11 مارچ کو جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں ٹرین ہائی جیکنگ کے پیچھے کالعدم تنظیم بی ایل اے کا ہاتھ تھا۔ اس واقعے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے۔

ایک اور تحقیقی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق، رمضان کے پہلے تین ہفتوں میں 61 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اس ادارے نے بتایا کہ گذشتہ سال ماہ رمضان میں مجموعی طور پر 60 حملے ہوئے تھے۔

27 مارچ، 2025 کو کوئٹہ میں ایک موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے کے بعد سکیورٹی اہلکار موقعے کا جائزہ لے رہے ہیں (اے ایف پی)
27 مارچ، 2025 کو کوئٹہ میں ایک موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے کے بعد سکیورٹی اہلکار موقعے کا جائزہ لے رہے ہیں (اے ایف پی)

اس تحقیق کے مطابق، یہ ایک دہائی میں سکیورٹی اہلکاروں کے لیے سب سے زیادہ مہلک رمضان ثابت ہوا، جس میں دو مارچ سے 20 مارچ کے درمیان 56 اہلکار جان سے گئے۔

ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان کے مطابق ملک میں عسکریت پسند سرگرمیوں میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مختلف گروہوں کے درمیان اتحاد قائم ہو رہا ہے۔ بلوچ دھڑے آپس میں مل رہے ہیں۔ شمال مغربی علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ، پاکستانی طالبان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے اور ان کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ لشکرِ اسلام جیسی کالعدم تنظیمیں بھی دوبارہ فعال ہو رہی ہیں، جو خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقوں میں سرگرم ہیں۔

پاکستان نے پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان حکومت پر ایسے گروہوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے عسکریت پسندوں کو فروغ ملا ہے۔ تاہم کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں