پاکستانی یونیورسٹی اور کامسٹیک کا او آئی سی ریاستوں سے سائنس میں تعاون کے فروغ کا معاہدہ
معاہدے کا مقصد مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی اور علم کے تبادلے کا فروغ ہے
سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) اور پاکستان یمیں انجینئرنگ کے ایک سرکردہ تعلیمی ادارے پی آئی ای اے ایس (پائیس) نے اتوار کو او آئی سی کی ریاستوں کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
اسلامی تعاون تنظیم کا مشن ہے کہ رکن ممالک میں پائیدار ترقی، غربت میں کمی اور معیار زندگی میں بہتری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سائنسی فضیلت اور تکنیکی جدت کو فروغ دیا جائے جس کے لیے 1981 میں قائم کردہ کامسٹیک ایک سنگِ بنیاد کے طور پر مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے کہا کہ کامسٹیک اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پائیس) کے درمیان معاہدے کا مقصد مشترکہ تحقیق، صلاحیت کی تعمیر اور علم کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
ریڈیو پاکستان نے کہا، "اس شراکت داری کے تحت کامسٹیک اور پائیس مشترکہ طور پر تعلیمی اور سائنسی پروگرام شروع کریں گے، بین الاقوامی کانفرنس، ورکشاپس اور تربیتی سیشنز کا انعقاد اور فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے کے پروگراموں میں سہولت فراہم کریں گے۔"
کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری اور پائیس کے ریکٹر ڈاکٹر نسیم عرفان نے اتوار کو ایک تقریب کے دوران مفاہمت نامے پر دستخط کیے جس میں دونوں اداروں کے سینئر حکام اور نمائندگان نے شرکت کی۔
معاہدے کی ایک اور خصوصیت جابر بن حیان سکالرشپ پروگرام کا آغاز ہے جو او آئی سی ممالک کے طلباء کے لیے پائیس میں انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنا ممکن بنائے گا۔
سکالرشپ میں کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، انجینئرنگ، میڈیکل فزکس، نیوکلیئر میڈیسن اور دیگر جدید شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
سرکاری میڈیا نے کہا، "مفاہمت نامے میں پائیس کی فراہم کردہ رہائش کے ساتھ قلیل مدتی فیلوشپس، بین الاقوامی تعلیمی تبادلوں اور اساتذہ کے لیے بامعاوضہ رخصت کی سہولت کے انتظامات بھی شامل ہیں۔"
اقوامِ متحدہ کے بعد او آئی سی دنیا کی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے۔ یہ چار براعظموں کے 57 مسلم رکن ممالک پر مشتمل ہے اور اسے تمام دنیا کے مسلم ممالک کی اجتماعی آواز سمجھا جاتا ہے۔