حکومت پاکستان کی جانب سے دو روزہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم آج اسلام آباد میں شروع ہو گیا۔ اس سمٹ میں امریکہ، سعودی عرب، چین اور کئی دیگر ممالک کے وزراء اور نجی کمپنیوں کے نمائندے شریک ہے۔
تقریب کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر معدنیات کے حوالے سے پاور ہائوس کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "پاکستان ریکو ڈک جیسے تاریخی ذخائر کا گھر ہے۔ پاکستان نایاب ارضیاتی عناصر، صنعتی معدنیات اور زمرد جیسے غیر دھاتی اور قیمتی پتھروں کے وسیع وسائل کا بھی گھر ہے۔"
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ اس وسیع غیر استعمال شدہ معدنی صلاحیت کے ساتھ، پاکستان عالمی سپلائی چینز کو نئی شکل دینے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب بھی کرسکتا ہے۔
پاکستان کی معروف ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنی 'آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ' (OGDCL)، حکومت پاکستان اور اسٹریٹجک پارٹنرز کے تعاون سے اس سمٹ کا انعقاد کر رہی ہے۔
رواں ہفتے ایک بیان میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں 8 سے 9 اپریل تک ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں تقریباً 2,000 افراد کی شرکت کی توقع رکھتی ہے، جس میں غیر ملکی معززین کی ایک "اہم" تعداد شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سمٹ میں چین، آذربائیجان، سعودی عرب، چین اور امریکہ کے حکام کی شرکت متوقع ہے۔