ماہ اپریل : دو ہفتوں میں تقریباً ساٹھ ہزار افغان مہاجرین پاکستان سے روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

تقریبا ساٹھ ہزار افغان شہری پچھلے دو ہفتوں کے دوران اپنے ملک افغانستان واپس چلے گئے ہیں۔ پاکستان جو پچھلے تقریبا 45 سال سے افغان شہریوں کے دوسرے گھر کے طور پر میزبانی کر رہا پچھلے سال سے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے اقدامات شروع کیے ہوئے ہے۔

یہ اقدامات افانستان میں طالبان کی حکومت مستحکم ہونے اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نئے اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

' انٹر نیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن ' نے منگل کے روز بتایا ہے کہ پچھلے سال اپریل میں شروع ہونے والی اس واپسی کے تحت مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کی اگلی کھیپ ساٹھ ہزار پر مشتمل رہی۔ یہ واپسی یکم اپریل سے 13 اپریل کے دوران ممکن ہوئی۔

اقوام متحدہ کے ادارے 'آئی او ایم ' کے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان افغان شہریوں کو طورخم اور سپین بولدک بارڈرز کے راستے واپس بھیجا گیا ہے۔

افغانستان میں 'آئی او ایم' کے سربراہ مہیونگ پارک کا کہنا ہے کہ ' مہاجرین کے واپس آنے کے بعد اب یہ مالی بوجھ تیزی سے بڑھنے والی ضروتوں کی صورت سامنے آئے گا۔ اس بڑی تعداد میں واپس آنے والوں کو افغان معاشرے کو اپنے اندر جذب کرنا ہو گا۔ '

یاد رہے پاکستان پچھلے دو برسوں سے اس کوشش میں ہے کہ افغان شہری جلد سے جلد واپس جائیں اور اپنی بھر پور زندگی شروع کریں۔ اس سلسلے میں پاکستان نے آٹھ لاکھ مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی کہ انہیں اپریل کے شروع تک واپس بھیج دیا جائے۔ ان میں وہ بھی شامل تھے جن کے پاس پاکستان کا جاری کردہ افغان سٹیزن کارڈ بھی موجود تھا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تقریباً تیس لاکھ افغان شہری پاکستان میں ہیں۔ ان میں بہت سے کئی دہائیوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ تاہم اب طالبان کی اپنی حکومت آج افغانستان میں قائم ہے ۔ اس لیے پاکستان انہیں واپس بھیج رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں