وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے لیبیا میں کشتی حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں چار پاکستانی بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس "پر بدھ کے روز جاری کردہ اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ "طرابلس میں پاکستانی مشن سے موصول ہونے والی ان اطلاعات پر افسوس ہوا جو لیبیا میں سرت شہر کے نزدیک ہونے والے کشتی کے حادثہ سے متعلق ہیں؛ جن میں کل جاں بحق ہونے والے 11افراد میں سے چار پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن اور دفتر خارجہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں کے حصول کے لئے کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں تاکہ آئندہ ہمارے "لوگوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں نہ وصول کرنی پڑیں۔"
قبل وزارت خارجہ کے حوالے سے شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے "کہ طرابلس میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور 11 لاشیں برآمد ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں سے چار پاکستانی شہریوں کی شناخت ان کے قومی دستاویزات کی بنیاد پر کی گئی جبکہ دو لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔"
بیان کے مطابق مرنے والے پاکستانی شہریوں میں زاہد محمود ولد لیاقت علی، سمیر علی ولد راجہ عبدالقادر، سید علی حسین ولد شفقت الحسنین اور آصف علی ولد نظر محمد شامل ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق طرابلس میں پاکستانی سفارت خانہ متاثرہ پاکستانی شہریوں کی مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ کی کرائسز مینیجمنٹ یونٹ کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ وزارت خارجہ نے متاثرہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت متاثرہ شہریوں کے لواحقین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق لیبیا گذشتہ کئی برسوں سے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے تارکین وطن کے لیے یورپ پہنچنے کا ایک اہم مگر خطرناک راستہ بنا ہوا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، خانہ جنگی، اور بارڈر کنٹرول کی عدم موجودگی کے باعث انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہوں نے لیبیا کو ایک سرگرم مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد نوجوان بہتر روزگار اور اچھی زندگی کے خواب لے کر ایران، ترکی اور لیبیا کے راستے یورپ کی طرف غیر قانونی نقل مکانی کرتے ہیں۔ انسانی سمگلروں کے جھانسے میں ہر سال سینکڑوں افراد اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
رواں سال جنوری میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ واکنگ بارڈرز نے موریطانیہ سے کشتی کے ذریعے سپین پہنچنے کی کوشش کرنے والے 50 تارکین وطن، بشمول 44 پاکستانیوں کے ڈوب کر جان سے چلے جانے کی اطلاع دی تھی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق 16 جنوری کو مغربی افریقہ کے ملک موریطانیہ سے روانہ ہونے والی ایک کشتی ہمسایہ ملک مراکش کے ساحل کے قریب الٹ گئی تھی جس سے پاکستانیوں کی اموات ہوئی تھیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور بین الاقوامی تنظیم برائے پناہ گزین (آئی او ایم) کے مطابق 2023 کے دوران بحیرہ روم کے مرکزی راستے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تقریباً تین سے زائد افراد مارے گئے یا لاپتہ ہو گئے جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔