امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی کال پر غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کی گئی ملک گیر ہڑتال کی وجہ سے ملک کے بیشتر شہروں میں بازار اور کاروبار بند رہے۔ یہ ہڑتال امریکی سرپرستی میں غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور انڈیا کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے خلاف کی گئی۔
تاجروں، وکلا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمائندگی کرنے والی مختلف تنظیموں نے ہڑتال کی وسیع پیمانے پر حمایت کی۔ لاہور میں تمام مارکیٹیں بند رہیں، کہیں کہیں دکانیں کھلی بھی نظر آئیں۔ تاہم ہڑتال کے باعث بندرگاہی شہر کراچی میں کوئی بڑی تجارتی سرگرمی نہیں ہوئی۔
اس دوران دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام حصوں میں بڑی مارکیٹیں بند رہیں۔ تجارتی مراکز کے سوا دیگر مقامات پر بھی ہڑتال کا اثر نمایاں ہے۔ پاکستان کے دیگر حصوں میں ہڑتال صرف جزوی طور پر ہو سکی۔
پشاور میں بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شٹر ڈاون ہڑتال کے باعث قصہ خوانی بازار، چوک یادگار، اشرف روڈ، چوک ناصر خان اور خیبر بازار میں دکانیں بند دکھائی دیں، اہم شاہراؤں پر چھوٹی بڑی مارکیٹیں اور شاپنگ مالز بھی بند تھیں۔
کوئٹہ میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی ہڑتال کی جا رہی ہے، شہر میں تمام اہم بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
یاد رہے کہ اس ماہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں غزہ یکجہتی مارچ کے بعد کراچی میں ہزاروں پاکستانیوں نے شرکت کی اور دنیا سے اسرائیلی فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان، جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مسلسل مذمت کرتا رہا ہے اور فلسطینی علاقے میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔