اسلام آباد میں شادی کے خواہشمندوں کی تقریب: روایت کے ساتھ جدید رجحان
مسلم میرج ایپ کی منعقدہ تقریب میں تقریباً 190 افراد شریک ہوئے
ایک ایسے ملک میں جہاں قدامت پسند سماجی اصول اکثر معمول کی ڈیٹنگ (مرد و خاتون کی شادی سے پہلے ہونے والی ملاقاتیں) کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، تقریباً 190 پاکستانی ہفتے کے روز اسلام آباد میں غیر شادی شدہ افراد کی ایک نایاب ملاقات کے لیے جمع ہوئے جس میں شریکِ زندگی کی تلاش کا ایک زیادہ کشادہ لیکن ثقافتی طور پر احترام کا راستہ پیش کیا گیا۔
دنیا کی سب سے بڑی مسلم میرج ایپ Muzz کے زیرِ اہتمام 15 ملین سے زائد ارکان کے ساتھ اس تقریب میں "بات پکی" کے بینر تلے پورے پاکستان میں رشتہ اجتماعات کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔ مز نے عرب نیوز کو بتایا، پاکستان میں اس کے 20 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔
شرکاء میں سے ہر ایک کے لیے ایک سرپرست کی موجودگی لازمی تھی جو ثقافتی حساسیت کی عکاسی کرتی اور سنجیدگی کو یقینی بناتی ہے۔
مز ایپ کے سی ای او شہزاد یونس نے عرب نیوز کو بتایا، "آج کی تقریب کا مقصد مخلوط عمر کے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے میں مدد کرنا تھا۔"
انہوں نے مزید کہا، "یہاں ٹیم کا کام لوگوں کو آپس میں ملانے میں مدد کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تقریب کے اختتام تک ہر ایک نے ہر اس شخص سے بات کی ہو جو ممکنہ طور پر ان سے مطابقت رکھتا ہو۔"
شرکاء کو عمر کے لحاظ سے تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا - 22 سے 30، 30 سے 40 اور 40 سے زیادہ۔ اہلِ خانہ کے لیے ایک ملحقہ لاؤنج تھا۔ بے تکلفی پیدا کرنے والے سوالات اور مز کے عملے نے ہر میز پر گفتگو شروع کرنے میں مدد کی۔
سنگلز سب سے پہلے دوسروں سے متعارف ہوئے، پھر اپنی عمر کے گروپ سے ملے تھے جس کا مقصد چار گھنٹے کے اجتماع کے دوران وسیع میل جول پیدا کرنا تھا۔
یہ تقریب ایک ایسے ملک کے لیے منفرد تھی جہاں شادیاں روایتی طور پر خاندانوں یا "رشتہ آنٹی" کے نام سے معروف رشتہ کروانے والی پیشہ ور خواتین کے ذریعے طے کی جاتی ہیں۔ یہ ممکنہ خاندانوں کو آپس میں ملاتے ہیں لیکن رشتہ طے ہونے سے پہلے لڑکا لڑکی کو شاذ و نادر ہی آزادانہ طور پر ملنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اپنی بیٹی کے ساتھ شرکت کرنے والی 65 سالہ نزلین جاوید نے کہا، "والدین کو شامل کرنا اس عمل کو مزید شفاف بناتا ہے۔ رشتہ کروانے والے جعلی ہوتے ہیں۔ دیکھیں، اگر آپ والدہ کے ساتھ آ رہے ہیں تو آپ کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے، ماں جھوٹ نہیں بول سکتی اور والدین کی دعائیں الگ ہوتی ہیں۔"
دوسروں نے سخت روایات سے الگ ایک موقع ملنے کی تعریف کی۔
اپنے بیٹے کے ساتھ آنے والی نورین خان نے کہا، "یہ طریقہ بہتر ہے کیونکہ آپ اس شخص کو دیکھ اور اس سے بات کر سکتے ہیں۔ بچوں کو اپنی زندگی ایک ساتھ گذارنی ہے، انہیں ایک دوسرے سے ملنے اور بات کرنے کی کچھ آزادی ہونی چاہیے۔"
ستائیس سالہ ماہین نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے شادی کے روایتی طریقوں سے پریشان تھیں۔
انہوں نے کہا، "مجھے روایتی طریقے کا شوق نہیں ہے جس میں لڑکے کے گھر والے آپ کے گھر آتے ہیں اور آپ ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوتی ہیں۔ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں، خامیاں نکالتے ہیں۔"
انہوں نے بات جاری رکھی، "مسترد ہونے کے خوف کے بغیر آپ کو ایک دوسرے سے آمنے سامنے بات کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اسی لیے میں یہاں ہوں۔"
پشاور میں این جی او کے شعبے میں کام کرنے والی 36 سالہ فریحہ خان نے شرکاء میں مختلف طرح کے لوگوں کی موجودگی کو سراہا۔
"مختلف شہروں اور ذاتوں کے لوگ یہاں ملے۔ اختلافات کے بارے میں وہ ہچکچاہٹ آج کم ہو گئی۔"
ایک اٹھائیس سالہ مکینیکل انجینئر سعد وحید نے اعتراف کیا کہ تقریب میں پہنچنے کے بعد پہلے تو بے چینی محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا، "میں تھوڑا سا ہچکچا رہا تھا کیونکہ مجھے ایک محافظ کی ضرورت تھی اور یہ مجھے بہت عجیب لگا لیکن طویل مدتی تعلق کے حوالے سے یہ سمجھ میں آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں موجود ہر شخص اس کے بارے میں سنجیدہ ہے جس کے لیے انہوں نے سائن اپ کیا ہے۔"
وحید کو ازدواجی ایپس کو اکثر غیر ذاتی محسوس ہوتی ہیں۔
"اس طرح کی تقریبات دوست بنانے کا موقع فراہم کرتی ہیں جو کسی ساتھی سے ملنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔"
پاکستان کے لیے مز کی مارکیٹنگ لیڈ، نایاب نذیر نے کہا کہ شرکاء بعد میں ان لوگوں کے پروفائلز کا جائزہ لے سکتے ہیں جن سے وہ ایپ کے ذریعے ملے تھے۔
"میں گھر واپس چلا جاتی ہوں اور اگر فرض کریں کہ مجھے تقریب میں پانچ افراد پسند آئے تو میں اصل میں جا کر ان پانچوں کے پروفائلز دیکھ سکتی ہوں اور درمیان میں کوئی تیسرا شخص رکھنے کی بجائے براہِ راست رابطہ کر سکتی ہوں۔"
دس سال قبل قائم کردہ مز نے پاکستان کے ثقافتی تناظر میں تیزی سے یہاں کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔
کمپنی کے سی ای او یونس نے کہا، "ہمیں حقیقت میں پتا چلا کہ ماؤں کو مدعو کرنے سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملی کہ ہر کوئی زیادہ سنجیدہ ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "یہ مؤثر طریقے سے سنگلز کی تقریب میں جانے میں مدد کرتی ہے۔ کئی مائیں ایک دوسرے سے مل سکتی ہیں۔ وہ صرف چند گھنٹوں میں بہت سے لوگوں کو ایک جگہ دیکھ سکتی ہیں۔"