سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر جعفر کی اپیل خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، تاہم عدالت نے ریپ کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ فیصلہ سنایا، جس میں مرکزی مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا۔
دورانِ سماعت مجرم کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ پراسیکیوشن کا تمام مقدمہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر منحصر ہے، اور شواہد کو شک و شبہے سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو فوٹیج کے دائرے سے باہر جا کر فیصلہ نہیں دینا چاہیے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکیل کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ جس فوٹیج پر اعتراض کر رہے ہیں، وہ پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں کسی قسم کی ٹیمپرنگ یا چھیڑ چھاڑ ثابت نہیں ہوئی، اور یہ ویڈیو براہِ راست سی سی ٹی وی کیمرے سے ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں انسانی مداخلت کا کوئی پہلو نہیں۔
اس موقع پر کیس میں شریک ملزمان مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلوں کو صرف اس بنا پر 10،10 سال قید کی سزا دی گئی کہ انہوں نے مقتولہ کو فرار ہونے سے روکا۔ جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ دونوں نور مقدم کو نہ روکتے تو ممکن ہے قتل روکا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی اپیل مسترد کر دی جبکہ مالی اور چوکیدار کی سزاؤں میں تخفیف کرتے ہوئے کہا کہ جتنی سزا وہ گزار چکے ہیں، ان کی وہی سزا تھی۔
وقوعہ کیا تھا؟
20 جولائی 2021 کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ملزم کو موقع سے حراست میں لے لیا گیا تھا، جبکہ ملزم ظاہر جعفر مشہور بزنس مین ذاکر جعفر کے صاحبزادے ہیں۔ پولیس نے چوبیس جولائی کو جرم کی اعانت اور شواہد چھپانے کے جرم میں ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی سمیت دو گھریلو ملازمین کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔
ٹرائل کورٹ میں کیا ہوا؟
چوبیس فروری 2022 کو سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کے بہیمانہ قتل کے مجرم ظاہر جعفر کو جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے قتل کے جرم میں تعزیرات پاکستان دفعہ 302 کے تحت سزائے موت، جبکہ ریپ کے جرم میں ظاہر جعفر کو 25 سال قید بامشقت کی سزا اور دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ اغوا کے جرم میں ظاہر جعفر کو دس سال قید بامشقت کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کو بری کر دیا گیا۔ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کو دس، دس سال کی قید سنائی گئی۔ ظاہر جعفر کے والد سمیت نو ملزمان کو عدالتی فیصلے کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ میں اپیلوں کا فیصلہ
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے سزا کالعدم قرار دینے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جبکہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے بری ہونے والے ملزمان کو سزائیں دینے اور زیرِ حراست مجرمان کی سزاؤں کو بڑھانے کی اپیل کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی سزا کے خلاف اپیل پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 21 دسمبر 2022 کو فیصلہ محفوظ کیا، جو چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے سنایا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے شریک مجرمان محمد افتخار اور جان محمد کی سزا کے خلاف اپیلیں بھی خارج کر دی تھیں، جنہیں ٹرائل کورٹ نے 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کو ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کو دو مرتبہ سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔