پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اموات بدھ کے روز مون سون کے آغاز پر ہونے والی طوفانی بارشوں کے باعث ہوئیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے تصدیق کی کہ صوبے میں اچانک سیلابی ریلوں اور مکانوں کی چھتیں گرنے کے واقعات کے باعث 19 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں آٹھ بچے بھی شامل تھے۔ مزید چھ افراد زخمی ہوئے جبکہ 56 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے چھ مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
علاقائی میڈیا کے مطابق وادی سوات میں پانچ بچوں سمیت 13 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے، جہاں سیلابی پانی نے دریا کے کنارے موجود کئی خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ادھر مشرقی صوبہ پنجاب میں جو تقریباً 13 کروڑ آبادی کے ساتھ ملک کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے بدھ سے اب تک 13 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں آٹھ بچے چھتیں یا دیواریں گرنے سے جاں بحق ہوئے، جبکہ باقی بالغ افراد اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ منگل تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید شدید بارشوں اور اچانک سیلابوں کا خدشہ برقرار رہے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی پاکستان میں شدید ژالہ باری اور طوفانی ہواؤں کے نتیجے میں 24 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہاں کے شہری تیزی سے بڑھتے ہوئے شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
-
پاکستان اگلے ماہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے ...
پاكستان -
پاکستان کے ساتھ کشیدگی ..بھارت، روس سے فضائی دفاعی نظام اور طیاروں کی جدید کاری کا خواہاں
بھارتی اور روسی وزرائے دفاع کی ملاقات چین کے شہر شنگ ڈاؤ میں ہوئی
بين الاقوامى -
پاکستان میں فوجی قافلے پر خود کش حملہ، متعدد اہلکار ہلاک و زخمی: انتظامیہ
شمالی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری ...
پاكستان