آپریشن بنیان مرصوص میں بیرونی حمایت کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، فیلڈ مارشل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فیلڈ مرشل عاصم منیر نے بھارت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ خالصتاً دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ممالک کو گھسیٹنے کی کوشش بھارت کی کیمپ سیاست کا ناقص ہتھکنڈہ اور کمزور حکمت عملی کی عکاس ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں اپنا خود ساختہ کردار جمانے کے لیے فرضی نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر بننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خطے کے کئی ممالک بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور انتہا پسند ہندوتوا نظریات سے پہلے ہی نالاں ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے دورے کے دوران نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس مکمل کرنے والے مسلح افواج کے گریجویٹنگ افسران سے خطاب کیا، انہوں نے بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی سکیورٹی منظر نامے، جنگ کے بدلتے کردار اور اس سے جڑے خطرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین یا مفادات کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا ایسا شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا جو دشمن کی سوچ سے بھی زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور اب اپنی اس شکست کی غیر منطقی توجیہات پیش کرکے اپنی اسٹریٹیجک کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان کی دہائیوں پر محیط حکمت عملی، مقامی دفاعی صلاحیتیں اور مضبوط ادارے ہماری طاقت کا مظہر ہیں، جنہیں بھارت ماننے سے گریزاں ہے۔

پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 7 جولائی 2025 کو اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس کے گریجویٹس سے خطاب کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)
پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 7 جولائی 2025 کو اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس کے گریجویٹس سے خطاب کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کامیابی میں بھارت کی جانب سے بیرونی تعاون جیسے الزامات غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی ہیں، ہماری آبادی کے مراکز، فوجی اڈوں، اقتصادی مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا شدید، گہرا، تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’ایسی اشتعال انگیز کارروائیوں کے سنگین نتائج کی ذمہ داری اس جارح پر عائد ہو گی جو ایک خودمختار جوہری ریاست کے خلاف اپنے سٹریٹجک اندھے پن کے باعث خطرناک اقدام کرے گا۔‘

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ’خالصتاً دوطرفہ فوجی تنازعے میں دیگر ریاستوں کو شریک قرار دینا کیمپ سیاست کا ناقص ہتھکنڈہ ہے جس کا مقصد صرف اس تاثر کو قائم رکھنا ہے کہ بھارت ایک بڑے جیو پولیٹیکل مقابلے کا فائدہ اٹھانے والا ’نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر‘ ہے، جب کہ خطے کے ممالک اس کی انتہا پسند ہندوتوا نظریے اور بالادستی پر مبنی سوچ سے پہلے ہی نالاں ہیں۔‘

آرمی چیف نے اس موقع پر مسلح افواج کے افسران پر زور دیا کہ وہ بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں ذہنی طور پر چوکنا رہیں، عملی فہم اور پیشہ ورانہ مہارت کو مزید بہتر بنائیں اور سول ملٹری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں تاکہ ہر چیلنج کا موثر مقابلہ کیا جا سکے۔

آرمی چیف نے کہا کہ جنگیں نہ تو میڈیا کی بڑھک بازی، درآمد شدہ جدید ہتھیاروں اور نہ ہی سیاسی نعروں سے جیتی جاتی ہیں، بلکہ ایمان، پیشہ ورانہ مہارت، واضح آپریشنل اقدامات، ادارہ جاتی مضبوطی اور قومی عزم سے جیتی جاتی ہیں۔

آرمی چیف نے اپنے خطاب کے اختتام پر پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بلند حوصلے اور تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں