آپریشن مہا دیو کے بھارتی دعوے پاکستان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے: دفتر خارجہ
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعے کو ’آپریشن سندور‘ پر انڈین پارلیمان میں دو روز قبل کی گئی بحث پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’نام نہاد آپریشن مہادیو سے متعلق کوئی بھی دعویٰ ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔‘
اسلام آباد میں جمعے کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ اپنی عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے بھارت کے رہنما اپنی مسلح افواج کے نقصانات کو تسلیم کریں۔ پاکستان ایسے ’بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتا ہے۔ اس طرح کے بیانات تنازعات کو بڑھاوا دینے کے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں جاری بیان میں کہا کہ بھارت جس انداز سے اپنی مسلح افواج کے دعوے پیش کر رہا ہے، وہ نہ صرف جھوٹ پر مبنی ہیں بلکہ ان کا مقصد خطے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دینا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت کی طرف سے “آپریشن سندور” کے حوالے سے پارلیمنٹ میں جو بیانات دیے جا رہے ہیں، وہ حقائق کو مسخ کرنے اور داخلی سیاست کو فائدہ پہنچانے کی ایک کوشش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بغیر کسی تحقیق، ثبوت یا عالمی تسلیم شدہ طریقہ کار کے، بھارت نے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا، جس میں کئی بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے ایک مرتبہ پھر نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن کر فیصلے صادر کیے ۔ پاکستان نے بھارتی دراندازی کے خلاف دفاعی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی اہداف کو کامیابی سے ناکام بنایا، جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔
ترجمان نے بھارتی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کو مسخ کرنے کے بجائے اپنی افواج کے نقصانات کو تسلیم کریں اور خطے میں امن کی کوششوں کا ساتھ دیں۔
پہلگام حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اس حملے کے مبینہ کرداروں کو بھارتی پارلیمنٹ میں بحث شروع ہونے سے عین قبل ہلاک کر دیا گیا؟
دفتر خارجہ نے باور کرایا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کرنا جانتا ہے بلکہ آئندہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی، مگر بھارت نے اس کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے جارحانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔
بیان کے آخر میں بتایا گیا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کا مؤقف موثر انداز میں پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔