پاکستان کے مختلف حصوں میں 23 سے 30 اگست تک شدید بارشوں اور سیلاب کا الرٹ جاری

خیبر پختونخوا: آندھی اور طوفانی بارش کے دوران حادثات و واقعات میں نو افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ملک بھر کے نشیبی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں کیوں کہ آنے والے دنوں میں مزید سیلاب کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق رواں برس 26 جون سے جاری مون سون کی شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر واقعات میں ملک بھر میں اب تک 750 سے زائد اموات ہو چکی ہیں، سینکڑوں لوگ زخمی ہیں جبکہ گھروں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف حصوں میں 23 سے 30 اگست تک شدید بارشوں، پہاڑی تودے گرنے سیلاب اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر سے ہفتے کو جاری کیے گئے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ ’حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کرنا قومی فریضہ ہے۔‘ انہوں نے دریاؤں، ندیوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کے قریب تعمیرات کی روک تھام کے لیے ایک قومی مہم بھی شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں گذشتہ رات شدید آندھی اور طوفانی بارش کے دوران حادثات و واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوگئے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شدید آندھی اور طوفانی بارش ہوئی۔

محکمہ موسمیات ڈیرہ اسمٰعیل خان کے مطابق طوفان کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، شدید آندھی کے باعث درخت اکھڑ کر سڑکوں پر گرگئے جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پینل بھی اڑ گئے۔

پیسکو کے مطابق آندھی کے باعث بجلی کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہوگیااور ٹانک، جنوبی وزیرستان، کلاچی اور ڈیرہ اسمٰعیل خان کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر فصیح اللہ کی ہدایت پر ریسکیو ٹیموں نے فوری ریسپانس دیتے ہوئے متاثرہ مقامات پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ حادثاتی مقامات پر ملبہ ہٹانے کا کام بھی بروقت مکمل کیا گیا۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں رات بھر متاثرہ علاقوں میں مصروفِ عمل رہیں اور عوام کو ہر ممکن امداد فراہم کی گئی۔

دوسری جانب پنجاب میں پی ڈی ایم اے نے راوی، چناب، ستلج اور جہلم دریاؤں میں بڑھتے ہوئے پانی کی سطح پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ شمالی اور شمال مشرقی اضلاع میں سیلاب آ سکتا ہے، جبکہ ستلج پہلے ہی گنڈا سنگھ والا کے قریب بلند سطح پر بہہ رہا ہے اور کم از کم 48 گھنٹے تک بلند رہنے کا امکان ہے۔

ریسکیو ٹیموں کو حساس علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے جب کہ مساجد اور مقامی حکام کے ذریعے اعلانات کیے جا رہے ہیں تاکہ خطرے سے دوچار آبادیوں کو آگاہ کیا جا سکے۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہنگامی صورت حال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

ایڈوائزری کے مطابق راوی، چناب، ستلج اور جہلم سمیت دریاؤں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ شمالی اور شمال مشرقی اضلاع میں اچانک آنے والے سیلاب کا بھی خطرہ موجود ہے۔

تمام ہنگامی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور ریسکیو یونٹس پہلے ہی حساس علاقوں میں تعینات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں