بھارت کی پاکستان کو دریائے ستلج اور توی میں ممکنہ سیلاب سے متعلق وارننگ

سندھ طاس کمیشن کی بجائے بھارت نے سفارتی ذرائع سے سیلاب کی وارننگ دی: دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کو جاری بیان میں بتایا کہ اتوار کو بھارت نے سندھ طاس کمیشن کی بجائے سفارتی ذرائع سے سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بھارتی وارننگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 24 اگست 2025ء کو دریائے ستلج میں سیلابی خطرے کے بارے میں سفارتی ذرائع سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس واٹر کمیشن کو اطلاع دینے کے بجائے براہِ راست سفارتی چینل استعمال کیا۔

ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ ’بھارت (سندھ طاس) معاہدے کی تمام شقوں کا پابند ہے‘ اور ’انڈیا کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام پر خاطر خواہ منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

بھارت نے مئی میں جنگی صورت حال کے بعد پاکستان سے دوسرا رابطہ کیا ہے اور دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کی اطلاع دی ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے پاکستانی حکام کو دریائے ستلج میں مزید پانی کی آمد سے آگاہ کیا گیا، اطلاع کے مطابق بھارت ہری کے پتن سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ سکتا ہے۔

یہ رابطے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد پہلے باضابطہ سفارتی روابط تصور کیے جا رہے ہیں، جس سے سیلاب کے ممکنہ خطرے کے ساتھ ساتھ پاک-بھارت تعلقات کے تناظر میں بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے توی اور ستلج میں ممکنہ فلڈ سے متعلق الرٹس ملنے کے بعد وزارتِ آبی وسائل نے متعلقہ 27 وزارتوں اور اداروں کو انتباہی خطوط جاری کر دیے ہیں۔ وزارت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑا تو دریا میں شدید طغیانی آسکتی ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ ستلج میں سیلاب سے پہلے ہی پاکستان کے کئی شہر اور دیہات متاثر ہو رہے ہیں، ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں جبکہ مال مویشی کے نقصانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

قبل ازیں مئی کی جنگ کے بعد بھارت نے گذشتہ روز پاکستان سے پہلی بار سرکاری سطح پر رابطہ کرتے ہوئے جموں کے مقام پر دریائے توی میں سیلاب کی اطلاع دی تھی۔

سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں بھارت نے جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب کی باضابطہ اطلاع پاکستان کو دی ہے، جس کے بعد حکومت پاکستان نے الرٹ بھی جاری کر دیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارت نے اعلان کیا تھا کہ اس نے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے، مئی میں پاک-بھارت جنگ کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا رابطہ تھا اور آج دوسرا رابطہ ہوا ہے جس میں توی کے بعد ستلج میں پانی چھوڑنے کے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں