سیلابی صورت حال کے سنگین ہونے پر پنجاب کے چھ اضلاع میں فوج طلب

پاک فوج پنجاب میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف، سیکڑوں افراد ریسکیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے نتیجے میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلابی کیفیت نے صورتحال کو نہایت تشویشناک بنا دیا ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

انسانی جانوں کے تحفظ اور بروقت امدادی کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے ہنگامی بنیادوں پر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ان چھ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کے لیے فوجی مدد کی فوری درخواست کی تھی جس پر محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122، پولیس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں پہلے ہی میدان عمل میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم خطرات کی شدت اور ممکنہ مزید تباہی کے پیش نظر سول انتظامیہ کو فوج کی مدد فراہم کرنا ناگزیر قرار دیا گیا۔ فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے طے کی جائے گی، جب کہ ضرورت پڑنے پر آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی متاثرہ علاقوں میں فراہم کیے جائیں گے۔

بھارت نے بدھ کو پاکستان سے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا شیئر کیں، جن کے مطابق پڑوسی ملک سے آنے والے تین دریاؤں میں کم از کم چار مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

پاکستان کی وزارت آبی ذرائع کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ دہلی سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق دریائے ستلج ہر ہریکے اور فیروزپور، دریائے راوی ہر مدھ پور اور دریائے چناب پر اخنور کے مقامات پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کے باعث اونچے درجے کی سیلابی صورت حال ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاؤ میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی نے ایک بیان میں بتایا کہ دریائے چناب، راوی، ستلج اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے، جب کہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر انتہائی زیادہ اونچے درجے کے سیلاب کی صورت حال ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد سات لاکھ 69 ہزار جبکہ اخراج سات لاکھ 62 ہزار کیوسک ہے۔ اسی طرح دریائے چناب خانکی کے مقام پر اونچے درجے کی سیلابی صورت حال ہے، جب کہ خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ سات لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ دو لاکھ 29 ہزار کیوسک ہے، جب کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورت حال اور پانی کا بہاؤ 72 ہزار کیوسک ہے۔

’بلوکی ہیڈورکس پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اور پانی کی آمد 79 ہزار جبکہ اخراج 67 ہزار کیوسک ہے، جب کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔‘

دوسری طرف ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبائی حکومت کے اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلا کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے پیش نظر عوام کے جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ریسکیو اور ریلیف ادارے ہائی الرٹ رہیں اور کوتاہی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب اور متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کر رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ حکومتی سطح پر جاری یہ فوری اور منظم ردعمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کسی بھی بڑے نقصان یا المیے سے بچنے کے لیے ریاستی مشینری مکمل طور پر متحرک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں