پاکستان : سیلاب متاثرہ علاقوں سے تقریبا پانچ لاکھ افراد کا انخلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان جس کے طول و عرض میں ان دنوں سیلاب اور اس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ اس کی شدت کے باعث تقریبا پانچ لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

یہ بات سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے ریلیف سے متعلق سرگرمیوں پر مامور حکام نے ہفتے کے روز بتائی ہے۔ حکام کے مطابق سیلابی ریلوں میں گھرے لوگوں کے ریسکیو کا کام وسیع پیمانے پر جاری ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب سے گزرنے والے تین دریاؤں میں ان دنوں طغیانی ہے۔ یہ تینوں دریا بھارت کے قبضے میں علاقے سے پاکستان میں آتے ہیں۔ اب تک ان دریاؤں کی طغیانی پنجاب کے 2300 دیہات کو ہٹ کر چکی ہے۔

صوبہ پنجاب کی طرف سے سیلاب متاثرہ لوگوں کے ریلیف کے شعبے کے سربراہ نبیل جاوید کے مطابق 481000 سیلابی پانی کی وجہ سے پھنس کر رہ گئے تھے جنہیں اب تک ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اسی دوران 405000 جانوروں کو بھی سیلابی ریلوں سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

یاد رہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک پندرہ لاکھ شہری پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں۔

صوبائی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ عرفان علی خان نے کہا پنجاب کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا پورے پنجاب میں آٹھ سو کشتیوں کی مدد سے لوگوں کو سیلابی ریلوں سے نکالنے میں 1300 کارکن سر گرم ہیں۔

یہ سرگرمیاں زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں ہیں جہاں دریا کے قرب میں بسنے والے سیلاب سے زیادہ متاثر ہیں۔ یہ چیلنج تین دریاؤں راوی، چناب اور ستلج کے ارد گرد زیادہ ہے۔

یاد رہے مجموعی طور پر پندرہ لاکھ افراد اس سیلاب سے ایک روز پہلے تک متاثر ہوئے تھے۔

تازہ ہلاکتوں کی تعداد 30 ہے جبکہ جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

عرفان علی خان نے کہا کسی بھی سیلاب زدہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر قسم کی ریسکیو سرگرمیاں جاری ہیں۔ پانچ سو سے زائد ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ تاکہ بے گھر ہونے والے متاثرین کو پناہ دی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں