اسلامی ممالک میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے مشہور تنظیم داعش نے بدھ کے روز کوئٹہ میں ایک ریلی پر خودکش حملہ کر کے 15 افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
کوئٹہ پاکستان کے سب سے بڑے اور جنوب مغربی صوبے بلوچستان کا دارالحکومت ہے جہاں منگل کے روز ایک ریلی پر خودکش حملہ کیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں کئی مقامی لیڈر بھی ہلاک ہوگئے۔
صوبائی وزیر داخلہ حمزہ شفقت نے اس واقعے کے بارے میں اب تک 15 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
بتایا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور نے 8 کلوگرام بارود سے بھری جیکٹ کے ساتھ حملہ کیا۔ اس کا نشانہ سٹیڈیم کا پارکنگ ایریا تھا۔ جہاں پر سینکڑوں لوگ جمع تھے۔
یاد رہے بی این پی مینگل گروپ نے اس ریلی کا اہتمام اپنے مؤقف کے ابلاغ کے لیے کیا تھا۔
اس علاقے میں اس سے قبل دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں معمول کا حصہ ہیں۔ تاہم بلوچستان سے تعلق رکھنے والی بعض جماعتیں ان کے بارے میں سخت لہجہ استعمال کرنے سے گریز کرتی ہیں۔
داعش کی دہشت گردی کا یہ واقعہ اس سلسلے میں ایک بڑا اور اہم واقعہ ہے کہ بی ایل اے کے علاوہ داعش نے بھی ایک بڑی دہشت گردانہ کارروائی کی ہے۔
داعش نے اپنے حملہ آور کی تصویر بھی شائع کی ہے جس میں وہ اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے نظر آرہا ہے۔
بی این پی کے سربراہ اختر جان مینگل ریلی سے خطاب کرنے کے بعد واپس نکلے ہی تھے کہ یہ خودکش دھماکہ ہوا۔ تاہم وہ محفوظ رہے اور اپنے کارکنوں کے جانی نقصان پر انہوں نے دکھ اور تکلیف کا اظہار کیا۔