شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس: پاکستان کا غزہ جنگ بندی کا مطالبہ، سی پیک میں توسیع کی حمایت
شہباز شریف کی چینی قیادت سے ملاقات، متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان نے اس ہفتے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں فلسطینی میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی کی مذمت کی اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان شفقت علی خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا، "ایس سی او سربراہی اجلاس میں وزیرِ اعظم شریف نے علاقائی اور عالمی مسائل پر زور دینے کے لیے پاکستان کا نکتۂ نظر پیش کیا اور علاقائی تعاون و استحکام کے فروغ میں ایس سی او کا کردار مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کے غیر انسانی فوجی مظالم کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔"
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی کیانگ سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے بیجنگ کی حمایت کو سراہا۔
خان نے کہا، "انہوں نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی اہمیت کو سراہا اور اس خواہش کا اعادہ کیا کہ سی پیک کے بہتر کردہ اگلے مرحلے کے کامیاب نفاذ کے لیے منصوبے کی پانچ نئی راہداریوں کے ساتھ چین سے مل کر کام جاری رکھا جائے۔ اس سے دونوں ممالک کو ایک مشترکہ مستقبل کی حامل ایک مضبوط تر پاک-چین کمیونٹی بنانے میں مدد ملے گی۔"
سی پیک کا دوسرا مرحلہ نمو، معاش اور جدت اور پاکستان کے قومی ترقیاتی فریم ورک کو تقویت دینے پر مرکوز ہے۔
جمعرات کو دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) تعاون میں اضافے کے لیے 4.2 بلین ڈالر مالیت کی 21 مفاہمتی یادداشتوں اور مشترکہ منصوبوں پر بھی دستخط کیے، پاکستانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی۔