پنجاب میں پتنگ بازی کے قانون کی منظوری، عشروں کے بعد بسنت تہوار کی واپسی
پتنگ سازوں اور فروخت کنندگان کے لیے رجسٹریشن کی سخت شرائط
جیسا کہ پنجاب کی صوبائی حکومت 25 سال کی پابندی کے بعد بسنت تہوار بحال کرنے کی طرف گامزن ہے تو پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیر کو پتنگ بازی کو منظم کرنے والے ایک نئے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ اب قانون سازوں کو اگلے اسمبلی اجلاس میں اس اقدام کی توثیق کرنے کا مرحلہ درپیش ہے۔
پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کو پہلے ہی گورنر سے منظوری مل چکی ہے اور صوبائی انتظامیہ نے اس ماہ کے شروع میں چھے تا آٹھ فروری بسنت تہوار منانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔
اس تہوار میں لاہور اور صوبے کے دیگر شہروں میں ہزاروں افراد چھتوں پر جمع ہو کر پتنگ بازی کیا کرتے تھے لیکن 2005 کے بعد سے حکام نے بار بار پتنگ بازی پر پابندی عائد کی جب درجنوں افراد بشمول کئی بچے دھاتی اور کیمیکل کے لیپ والی ڈور سے ہلاک یا زخمی ہوئے۔ یہ ڈور موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کو کاٹ دیتی تھی۔
آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ "انسانی جانوں، سرکاری و نجی املاک اور اس سے متعلق معاملات کو بچانے کی غرض سے پنجاب میں پتنگ بازی کو منظم کرنا ضروری ہے۔"
آرڈیننس کے تحت پتنگ سازوں، فروخت کنندگان اور پتنگ بازی کرنے والی ایسوسی ایشنز کا ڈپٹی کمشنر کے ہاں رجسٹر ہونا ضروری ہے اور پتنگ بازی کی اجازت صرف ان اضلاع میں ہو سکتی ہے جہاں حکومت باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے۔
متن میں کہا گیا ہے کہ ضلعی حکام صرف صوبائی حکومت کی پیشگی منظوری کے ساتھ پتنگ بازی کی اجازت دے سکتے ہیں۔
اس آرڈیننس کے تحت پتنگ کی ممنوعہ ڈوروں بشمول دھاتی تار، نائیلان کی تار (تندی) یا کیمیکل کے لیپ والی تیز تار کی تیاری، نقل و حمل یا فروخت پر پانچ سال تک قید اور 20 لاکھ روپے (7,200 ڈالر) تک جرمانے کی سزا بھی مقرر کی گئی ہے۔
پتنگ کی غیر رجسٹرڈ پیداوار یا فروخت پر پانچ سال تک قید اور 500,000 روپے (1,800 ڈالر) تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
آرڈیننس کے تحت جرائم قابلِ سماعت اور ناقابلِ ضمانت ہیں۔
آرڈیننس میں کہا گیا ہے، "پتنگ کے ممنوعہ مواد کے بارے میں اطلاع ملنے پر ایک پولیس افسر جو سب انسپکٹر سے کم درجے کا نہ ہو، تلاشی لے سکتا ہے یا وارنٹ کے بغیر گرفتاری کر سکتا ہے۔"
حکام نے بتایا کہ اس آرڈیننس سے پنجاب میں پتنگ اڑانے پر پابندی کا آرڈیننس 2001 منسوخ ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ دوبارہ منعقد ہونے پر اسے باضابطہ منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
-
آسٹریلیا کی بونڈائی بیچ پر فائرنگ، پاکستان سمیت عالمی رہنماؤں کا اظہار افسوس
پاکستان سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں نے اتوار کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور ساحل ...
بين الاقوامى -
انسانی حقوق کےاصولوں کانفاذ دنیابھرمیں منصفانہ اورمساوی بنیادوں پرکیاجاناچاہیے:پاکستان
پاکستان کے موسمیاتی تبدیلیوں کے وزیر نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دے کر ...
بين الاقوامى