پاکستان نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ او آئی سی کی سطح پر مختلف بیماریوں اور وباؤں سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری کا مشترکہ اہتمام کیا جائے۔
یہ بات پاکستان کے وزیر مملکت برائے صحت کے حوالے سے وزارت اطلاعات کی طرف سے بتائی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی طرح بہت سے او آئی سی کے ممبر ملک اپنے ہاں استمعال کی جانے والی ویکسین دوسرے ملکوں سے درآمد کرتے ہیں۔ جس کی سالانہ لاگت 400 ملین ڈالر ہے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق اگر او آئی سی کی سطح پر ویکسین کی تیاری کا مشترکہ اہتمام شروع کیا گیا تو مجموعی اخراجات کے مقابلے میں شراکت داروں کو صرف 49 فیصد اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ وزارت کے حکام کا کہنا ہے ویکسین کی تیاری میں بعض رکاوٹیں ہیں۔
خیال رہے 70 فیصد سے زائد ویکسینز دنیا کے چند ملکوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ کم آمدنی والے ملکوں کو بھی ویکسین کی درآمد کے لیے ان پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور زر مبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد ملک نے منگل کے روز اسلام آباد میں او آئی سی کے ویکسین تیار کرنے والے گروپ سے خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ویکسین بھی آج کے شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد نے ویکسین کی تیاری کے دیگر پہلوؤں اور تکنیکی امور پر بھی بات کی اور انہوں نے اس سلسلے میں ایک متعین روڈ میپ پر واضح ٹائم لائن کے ساتھ عمل پر زور دیا۔ یہ پیش رفت پاکستان کے وفاقی وزیر صحت کی طرف سے حالیہ دنوں میں لیے گئے انیشی ایٹیوز کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے اس موقع پر یہ نشاندہی بھی کی کہ پاکستان کو جن 13 بیماریوں کے لیے بعض ملکوں سے ویکسین مفت ملتی ہے یہ سلسلہ 2030 میں ختم ہوجائے گا۔ اس لیے ہمیں اس سے پہلے ویکسین کی تیاری کا اہتمام کرنا ہوگا۔
پاکستان میں ویکسین کی تیاری کو سٹریٹجک پالیسی میں اہم ترجیح کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل ویکسین پالیسی مرتب کی گئی ہے۔ تاکہ اس شعبے میں آنے والوں کے لیے معاشی ترغیبات پیش کی جائیں اور اس ویکسین تیاری کے معاملے کو سپیشل زون کا حصہ بنایا جائے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ ویکسین کی تیاری میں سرکاری و نجی دونوں شعبے شریک ہوں۔