ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بلاک بسٹر میچ: پاکستان اور روایتی حریف بھارت آج شام مدِ مقابل ہوں گے
کرکٹ کا سب سے زیادہ انتظار کردہ ٹاکرا مئی 2025 کی پاک-بھارت جنگ کے بعد نہایت اہم ہے
پاکستان آج اتوار کو کولمبو میں دفاعی چیمپیئن اور روایتی حریف بھارت کے مدِ مقابل ہو گا جو فریقین کے درمیان تی 20 ورلڈ کپ 2026 کا انتہائی متوقع اور انتظار کردہ مقابلہ ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان گروپ اے کا میچ نہ صرف میدان میں مقابلے کے حوالے سے بلکہ ہمسایوں کے درمیان سیاسی تناؤ کے باعث بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اہمیت مئی 2025 میں ایک مختصر پاک-بھارت فوجی تصادم کے نتاظر میں ہے۔
تاہم سیاسی تناؤ اس وقت کرکٹ کے میدان تک آن پہنچا جب بھارتی کپتان سوریاکمار یادو نے گذشتہ سال ستمبر میں ایشیا کپ کے ٹاکرے میں ٹاس سے قبل اپنے پاکستانی ہم منصب سے مصافحہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھارتی ٹیم نے ٹورنامنٹ کے تینوں میچز میں اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا جس پر پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔
اس ماہ کے شروع میں پاکستان کی حکومت نے بنگلہ دیش سے یکجہتی کے طور پر ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کو بھارت کے خلاف کھیلنے کی اجازت نہ دینے کے اعلان کیا جس کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔ بنگلہ دیش کے بائیکاٹ کے بعد جنوبی ایشیائی ملک سکاٹ لینڈ نے اس کی جگہ لے لی۔ پاکستان نے اس اقدام پر تنقید کی اور بھارت کے خلاف 15 فروری کے میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ تاہم اسلام آباد نے بعد میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے مذاکرات کے بعد میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔
پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ہفتہ کو میچ سے قبل پریس کانفرنس میں کہا، "کھیل کو حقیقی روح کے ساتھ کھیلا جانا چاہیے جس طرح شروع سے ہوتا آیا ہے۔ باقی ان (بھارت) پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔"
بھارتی کپتان سوریاکمار یادو نے یہ عہد نہیں کیا کہ ان کی ٹیم اتوار کو پاکستان سے مصافحہ کرے گی یا نہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے سوال کیا، "آپ اسے کیوں اہمیت دے رہے ہیں؟ ہم یہاں کرکٹ کھیلنے آئے ہیں۔ ہم اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔ ہم ان تمام باتوں کو کل دیکھیں گے۔"
دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و فوجی کشیدگی کی بنا پر دونوں ٹیموں نے برسوں سے کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی ہے۔
بھارت نے 2008 کے بعد سے پاکستان کا سفر نہیں کیا ہے اور پاکستان نے 2023 میں 50 اوور کے ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھارت کے خلاف غیر جانبدار مقامات پر کھیلنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ یہ ایک ہائبرڈ ماڈل کے تحت ہوا جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی نے متعارف کروایا۔
بھارت نے پاکستان کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ کے زیادہ تر میچز میں کامیابی حاصل کی ہے۔
"ورلڈ کپ میں ان کے خلاف ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں ہے،" آغا نے اعتراف کیا۔ "لیکن جب بھی آپ کوئی نیا میچ کھیلنے آتے ہیں تو یہ ایک نیا دن ہوتا ہے اور آپ کو جیتنے کے لیے اچھی کرکٹ کھیلنا ہوتی ہے۔"
نیز کہا، "آپ تاریخ کو بدل نہیں سکتے لیکن اس سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے اس سے سیکھا اور ہم کل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے اور میچ جیتیں گے۔"
دونوں ٹیمیں اب تک اپنے دو میچز جیت چکی ہیں۔ بھارت نے امریکہ اور نمیبیا کو جبکہ پاکستان نے نیدرلینڈز اور امریکہ کو شکست دی ہے۔
ہر گروپ سے سرفہرست دو ٹیمیں ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
پاک-بھارت میچ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام 6:30 بجے شروع ہونا ہے۔