پاکستان : 11 فوجیوں کی خودکش دھماکے میں ہلاکت کے بعد افغان سفارتکار کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک سینیئر افغان سفارتکار کو طلب کر کے سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ احتجاج اسی ہفتے میں پاکستانی سپاہیوں پر کیے گئے خودکش دھماکے کے سلسلے میں تھا۔ جس میں 11 سپاہی اور 1 بچی کی افغان سرحد کے نزدیک ہلاکت ہوئی تھی۔

وزارت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان کے سفارتی مشن کے نائب سربراہ کو بدھ کے روز طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔تاکہ ضلع باجوڑ میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکے پر پاکستان کے جذبات سے آگاہ کیا جائے۔

اس موقع پر بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں اپنا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تاکہ ان دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جا سکے جو اس حملے کے پیچھے تھے۔ کیونکہ اپنے شہریوں اور سرحدوں کی حفاظت پاکستان کا حق ہے۔

اس سلسلے میں ابھی تک افغانستان کی طرف سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر 2025 سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جب درجنوں سپاہیوں کی ہلاکت کے علاوہ کئی شہری اور مشتبہ جنگجو بھی مارے گئے تھے۔

کشیدگی کے انہی دنوں میں 9 اکتوبر کو کابل میں دھماکے ہوئے جن کا الزام افغانستان نے پاکستان پر عائد کیا۔ تاہم بعد ازاں قطری کوششوں کے نتیجے میں دونوں طرف عارضی جنگ بندی ہوگئی۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ استنبول میں بھی جاری رہا مگر ناکام ہوگیا۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جس نے افغانستان کے مختلف شہروں میں پناہ لے رکھی ہے۔ پاکستان کے لیے 2021 کے بعد افغان طالبان کی حکومت قائم ہونے کے باوجود 'ٹی ٹی پی' کی پاکستان مخالف کارروائیوں میں اضافہ حیرت انگیز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں