شرقِ اوسط کشیدگی: پاک-ایران سرحدی تجارت رک گئی، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ

سینکڑوں کلومیٹر طویل سرحدوں کی بندش سے بھاری مالی اور معاشی نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

شرقِ اوسط کی موجودہ کشیدگی سے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت رک گئی ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں خوراک کی قیمتیں تقریباً دوگنا ہو گئی ہیں، علاقے کے رہائشیوں نے اس ہفتے کہا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور دونوں طرف کے سرحدی شہروں میں رہائشی کئی عشروں سے ہمسایہ ممالک کے درمیان غیر رسمی تجارت پر انحصار کرتے ہیں۔

بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں ایک سبزی فروش کمال خان نے اے ایف پی کو بتایا، "[ایران میں] جنگ کی وجہ سے راستے بند ہیں۔ پہلے جو چیزیں مجھے فی کلوگرام 200-250 روپے تک ملتی تھیں، وہ اب 250-400 روپے تک مل رہی ہیں۔"

"اس بندش کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں کچھ غریب لوگوں کی قوتِ خرید نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا۔

ایک مقامی تاجر کامران خان نے کہا، تنازعات اور اس کے نتیجے میں سرحد کی بندش سے میرے کاروبار کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا، "تفتان میں گھریلو استعمال کی خوردنی اشیا نایاب ہو رہی ہیں۔ [تفتان کے راستے] آنے والی ایل پی جی کی اب پورے پاکستان میں قلت ہونے لگی ہے۔ ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں