پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے جمعرات کو خطے میں امن کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کی تعریف کی۔ دریں اثناء ایران شرقِ اوسط جنگ میں خلیجی ریاستوں اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں میں صرف امریکہ سے منسلک فوجی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم ان ممالک میں سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کا ایک ناقابلِ تردید سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران نے سعودی عرب کی راس تنورۃ آئل ریفائنری، آرامکو کی تنصیبات اور الشیبۃ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا ہے جس پر مملکت نے شدید تنقید کی ہے۔
جمعرات کو ایک ویڈیو پیغام میں المالکی نے کہا، ایران کے اقدامات ان خودمختار ریاستوں کے خلاف "بلا جواز جارحیت" ہیں جو کسی تنازع میں فریق نہیں ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور میں درج اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا، "اس تناظر میں ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کے ذمہ دارانہ مؤقف کو سراہتے ہیں اور ہم بحران پر قابو پانے اور پرامن حل کی طرف پیش قدمی کے لیے اس کی مسلسل کوششوں اور دانشمندی کی قدر کرتے ہیں۔"
انہوں نے کہا، اسلام آباد کی کوششیں خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں "تعمیری کردار" ادا کرنے کے لیے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
مالکی نے کہا، "سعودی مملکت پختہ یقین رکھتی ہے کہ بحران سے نکلنے کا راستہ حکمت اور بین الاقوامی یکجہتی ہے اور انسانی اصولوں کی پاسداری ہی امن و سلامتی کے تحفظ کا محفوظ ترین طریقہ ہے۔"
مالکی نے مشاہدہ کیا کہ خطے میں ایران کے حملوں میں مختلف ممالک کے شہریوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے خلاف ورزیوں کی شدت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں خلیجی ممالک کے ایئرپورٹس، ہوٹلز اور دیگر تنصیبات سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے جمعرات کو کہا، امریکہ اور تہران پاکستان کے ذریعے "بالواسطہ مذاکرات" کر رہے ہیں۔ دیگر ممالک کے علاوہ ترکی اور مصر بھی اس اقدام کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "پاکستان امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور خطے اور اس سے باہر استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔"
علاوہ ازیں ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ اسلام آباد نے ریاض کو اپنی امن کوششوں سے باخبر رکھا ہوا ہے۔
اندرابی نے کہا، "آپ نے دیکھا کہ سعودی عرب ایک اہم مذاکرات کار اور تنازعے ایک بڑا فریق ہے۔ سعودی عرب پر حملہ ہوا ہے اس لیے یقیناً اس سے بات چیت جاری ہے۔"
پاکستان نے تنازعے کے تمام فریقوں پر تحمل سے کام لینے اور مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔