عمان میں ایک پاکستانی محنت کش کی دو بھارتی شہریوں کی جان بچانے پر تعریف کی گئی جو سیلاب میں بہہ جانے والی گاڑی میں سوار تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدہ تعلقات کے باوجود یہ عمل سرحدوں سے ماورا انسانیت کا ایک عظیم مظاہرہ تھا۔
یہ واقعہ مسقط کے مغرب میں واقع ایک ساحلی شہر برکاء میں پیش آیا جہاں ایک گاڑی سیلابی پانی میں بہہ کر ایک خشک ندی میں جا پہنچی جو تیز بارش کے دوران تیزی سے بھر سکتی ہے۔ اس وقت سینکڑوں تماشائی اوپر ایک پل پر جمع تھے جن میں سے کئی اس منظر کو اپنے موبائل فون پر فلما رہے تھے۔
ان میں خیبرپختونخوا کے شبقدر سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ شہزاد خان بھی تھے جو تیراکی نہیں جانتے لیکن گاڑی پر کھڑے ہو کر آدمیوں کو نکالنے میں کامیاب رہے۔
خان نے کہا کہ اس لمحے نے انہیں 2025 میں اپنے ملک میں ہونے والے ایک سانحے کی یاد آ گئی جہاں ایک ہی خاندان کے 13 افراد سمیت 17 سیاح بہہ گئے تھے جبکہ راہگیر تماشہ دیکھتے رہے اور ریسکیو میں تاخیر ہوئی۔
انہوں نے زوم کے ذریعے انٹرویو دیتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، "میرے ذہن میں فوراً سانحۂ سوات کا خیال آیا جس دن وہ خاندان مصیبت سے بچنے کے لیے کسی کا انتظار کر رہا تھا لیکن کوئی نہیں آیا۔ میرے دل میں انسانیت کا وہی خیال آیا: مجھے ان لوگوں کو بچانا ہے۔"
عید الفطر کی تعطیلات کے دوران 21 مارچ کو عمان کم دباؤ والے ایک طاقتور موسمیاتی نظام کی زد میں آ گیا جس نے عموماً خشک رہنے والی ندیوں کو تیز رفتار سیلابی نالوں میں تبدیل کر دیا۔ خان نے اسی دن ریسکیو کیا۔ سول ڈیفنس اینڈ ایمبولینس اتھارٹی (سی ڈی اے اے) کے مطابق طوفان سے پانچ بچوں سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے۔
صرف برکاء میں اگلے دن ایک الگ واقعے میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے تین بھارتی شہریوں کی جان چلی گئی جب ان کی گاڑی سیلاب میں بہہ گئی۔ اس واقعے سے خطرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
خان نے بتایا کہ انہوں نے جزوی طور پر پانی میں ڈوبی گاڑی پر چھلانگ لگا دی اور زور لگا کر اس کا عقبی دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پہلے اسے لات ماری اور پھر ایک راہگیر کے پھینکے ہوئے پتھر سے شیشہ توڑ کر دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔
"اندر دو آدمی تھے، ایک جزوی طور پر پانی میں ڈوبا تھا اور دوسرا اس کے اوپر،" انہوں نے یاد کیا۔
خان نے پہلے آدمی کو زور لگا کر باہر نکالا، پھر دوسرے آدمی تک پہنچے جو بظاہر "اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا" لیکن بالآخر بچ گیا۔
اس کے بعد ہی خان کو معلوم ہوا کہ انہوں نے جن دو افراد کو بچایا، وہ بھارتی شہری تھے یعنی جس ملک سے پاکستان کے تعلقات 1947 سے کشیدہ ہیں جن میں متعدد جنگیں اور تنازعۂ کشمیر بھی شامل ہے۔
پھر بھی یہ معاملہ تباہ کن سیلابی پانیوں سے ماورا تھا۔
خان نے کہا، "اس وقت میرے خیالات خالصتاً انسانیت کے لیے تھے، اور کچھ نہیں۔ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ گاڑی کے اندر موجود لوگ بھارتی تھے یا کسی اور ملک سے۔ مجھے سب سے زیادہ خوشی اور اطمینان کا احساس تب ہوا جب دونوں بھارتیوں نے مجھے گلے لگایا۔"
مسقط میں پاکستانی سفارت خانے نے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا جس کے بعد سے ان کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے۔
پاکستان کے سفیر سید نوید صفدر بخاری نے انہیں ایک "قومی ہیرو" قرار دیا اور کہا کہ انہیں تیراکی نہ آنے کے باعث ریسکیو کا عمل "بے مثال" ہو گیا۔
بارہویں تک تعلیم یافتہ اور مزدوری کرنے والے خان کے نزدیک ان دو اقوام کے درمیان ربط کا یہ نایاب لمحہ ثانوی اہمیت کا حامل ہے جو اکثر اختلافات کا شکار رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا، "بھارتیوں نے میرے عمل پر بہت محبت اور تعریف کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری اختلافات کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اگر بھارت اور پاکستان کے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات رکھیں تو بہتر ہو گا۔"
جیسے جیسے سیلاب کا پانی کم ہوا تو خان اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں حالانکہ پاکستان میں ان کا خاندان اب انہیں ملنے والی تعریفیں سمیٹ رہا ہے۔
"میرے والد، والدہ اور بہنیں سب بہت خوش ہیں۔ میرے والد کو فخر ہے کہ پاکستان کا اس طرح اعتراف کیا جائے،" اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف حوصلہ افزا لیکن خود اس عمل کے مقابلے میں ثانوی تھا۔
انہوں نے مزید کہا، "میں نے یہ انسانیت کے لیے کیا اور پھر بھول گیا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ بھارتی تھے اور میں نے اللہ کی رضا کے لیے انہیں بچایا۔"