متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرمیثی نے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی اور شرقِ اوسط تنازع کے دوران خلیجی ریاست کو خوردنی اشیاء کی ترسیل پر تبادلۂ خیال کیا، یہ بات کراچی میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے نے جمعہ کو بتائی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شرقِ اوسط کر رسد بہت متأثر ہوئی ہے کیونکہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں امریکی مفادات پر حملے جاری ہیں۔
شہباز شریف نے رواں ماہ پاکستانی حکام سے کہا کہ وہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال کے پیشِ نظر شرقِ اوسط کے برادر ممالک کو اضافی خوراک اور اجناس برآمد کرنے کا منصوبہ تیار کریں، وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا۔
متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کے مطابق شریف اور الرمیثی نے ملاقات کے دوران خطے کی موجودہ صورتِ حال اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔
متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے نے ایک بیان میں کہا، "وزیرِ اعظم نے خطے کی صورتِ حال کے پیشِ نظر متحدہ عرب امارات کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ خوردنی اشیاء بشمول سبزیاں، پھل، گوشت اور دیگر کی ترسیل پر خصوصی توجہ دی گئی۔"
بیان کے مطابق بعد ازاں پاکستان کی وزارتِ تجارت کے حکام نے اماراتی قونصل جنرل سے بات کی اور انہیں اس سلسلے میں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی۔
علیحدہ طور پر قونصل جنرل نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور پاکستانی ایئرلائنز کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ ایمریٹس ایئرلائنز اور فلائی دبئی کے حکام سے بھی ملاقات کی۔
متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے نے کہا، "امارات ایئرلائنز پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہفتہ وار 53 پروازیں چلا رہی ہے اور ہر پرواز کے ذریعے 15 ٹن سامان لے جایا جا رہا ہے۔"
نیز کہا، "اگر تجارتی اور انسانی ضروریات کے لیے سامان کی نقل و حرکت میں سہولت کی ضرورت ہو تو ایمریٹس ایئرلائنز خصوصی پروازیں بھی چلا سکتی ہے۔"