وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کے روز متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ عراق جانے والے زائرین کو بہتر بحری سفر کی سہولیات فراہم کرنے کی خاطر فیری سروس چلانے کا اپتمام کیا جائے۔ نیز اس سلسلے میں فوری طورپر 'فزیبلٹی رپورٹ' پیش کی جائے۔
وزیر داخلہ کے مطابق یہ فیری سروس پاکستان کے اہم بندر گاہی شہر کراچی سے عراق کے لیے شروع کی جائے گی۔ وزیر داخلہ کی خصوصی توجہ کے پیش نظر زائرین کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولتوں اور نئے قواعد کا بھی عراقی حکومت سے مل کر اہتمام کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ہر سال ہزاروں پاکستانی زیارتوں کی غرض سے عراق جاتے ہیں۔ تاکہ کربلا معلیٰ ، نجف اشرف میں زیارتیں کر سکیں۔ اس سلسلے میں پاکستان سے حالیہ برسوں کے دوران عراق کے علاوہ ایران کے لیے مذہبی سیاحت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان کی طرف سے اسی سلسلے میں کراچی سے عراق تک کے لیے فیری سروس چلانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں کسی بین الاقوامی آپریٹر کو پاکستان کی طرف سے پچھلے سال پہلی بار باقاعدہ لائسنس کا اجراء کیا گیا ہے۔
اسے کے تحت 2025 میں پاکستان ایران اور خلیجی ملکوں کے درمیان ایک روٹ کے لیے تیاری کی گئی تاکہ زائرین کو عراق جانے میں آسانی رہے اور ان کا سفر محفوظ بنایا جا سکے۔ فیری سروس چلانے کے لیے ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔ فیری سروس کراچی سے گوادر اور ام قیصر کی بندر گاہوں سے ہوتی ہوئی عراق جائے گی۔
وزیر داخلہ نے حکام کو فیری سروس شروع کرنے کے لیے تیاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی طرف سے یہ حکم کراچی میں کوسٹل گارڈ ہیڈ کوارٹرز میں حکام سے بات چیت کے دوران دیا گیا ہے۔
اس موقع پر کوسٹل گارڈز کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر داخلہ کو بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا پچھلے سال بحری راستوں سے منشیات سمگلنگ کی کئی وارداتیں ناکام بنائی گئیں اور مجموعی طور پر 14000 کلو گرام منشیات پکڑی کی گئی۔ جس کی مجموعی مالیت 8 ارب روپے ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر سمگلنگ، منشیاتی دھندے اور ہیومن ٹریفکنگ کے خلاف سخت ترین کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ساحلی حفاظ کے اس ادارے کی تریف کی اور اس کی طرف سے کوششوں کو سراہا ۔