پاکستان اور دس دیگر ممالک نے جمعرات کو بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے امدادی جہازوں پر قبضے کی مذمت کی اور اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے زیرِ حراست کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ترکی، برازیل، اردن، سپین، ملائیشیا، بنگلہ دیش، کولمبیا، مالدیپ، جنوبی افریقہ اور لیبیا کے وزراء خارجہ کے جاری کردہ مشترکہ بیان میں پاکستان نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی مذمت کی جو غزہ میں انسانی بحران کو نمایاں کرنے کے لیے ایک سویلین اقدام ہے۔
اسرائیلی افواج کے یونان کے قریب بحری جہازوں کو روکنے کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ فلسطینی انکلیو میں "بحری ناکہ بندی" نافذ کرنے کے مترادف ہے۔
وزراء نے بیان میں کہا، "بحری جہازوں کے خلاف اسرائیلی حملے اور بین الاقوامی پانیوں میں انسانی ہمدردی کے کارکنان کی غیر قانونی حراست بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔"
نیز کہا، "وزراء سویلین کارکنان کے تحفظ کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا ہیں اور اسرائیلی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان کی فوری رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔"
یہ بحری قافلہ 12 اپریل کو بارسلونا سے انسانی امداد لے کر روانہ ہوا تھا اور اسے بدھ کے اواخر میں غزہ سے سینکڑوں میل دور یونان کے جزیرہ نما پیلوپونیس پر روک لیا گیا تھا۔
گروپ کی جاری کردہ فوٹیج میں اسرائیلی فوجیوں کو جہازوں میں سوار اور عملے کے ارکان کو حراست میں لیتے ہوئے دکھایا گیا۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے "بحری قزاقی" اور بین الاقوامی پانیوں میں کنٹرول کے غیر قانونی دعوے کے طور پر اس مداخلت کی مذمت کی جبکہ جرمنی اور اٹلی سمیت بعض مغربی حکومتوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان اور دیگر ممالک کے مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور شہریوں کی حفاظت کریں اور اس واقعے کے لیے احتساب کو یقینی بنائیں۔