اہلیہ نے ایئرپورٹ پر شکرانے کا سجدہ کیا، ان کی آنکھیں جائے نماز پر اس لیے چھلک پڑیں کہ خواب پورا ہو گیا تھا۔ خوشی اور تشکر کے جذبات آپس میں مل گئے تھے۔ وہ خاتون بات نہ کر سکیں یہی حال ان کے شوہر کا تھا جو زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہونے پر اظہارِ بیان سے قاصر کھڑے تھے۔ پاکستانی شہری محمد افضل اور ان کی اہلیہ طویل انتظار کے بعد بالاخر اپنی مراد کو پہنچ گئے۔ وہ فریضہ حج کی ادائیگی کا خواب دیکھ رہے تھے اور اب ان کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔
پاکستان کے تیسرے بڑے ہوائی اڈے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ان دونوں نے اپنی زندگی کی کمائی سمیٹنے اور اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی کے لیے ٹکٹ حاصل کیے۔ وہ شاید پہلی مرتبہ ’’ روڈ ٹو مکہ ‘‘ اقدام کے تحت حج ادا کرنے جا رہے ہیں ۔ یہ 20 سال کے طویل انتظار کے بعد ممکن ہوا۔
یہ اقدام سعودی عرب نے 2018 میں تجرباتی طور پر شروع کیا تھا جس میں حجاج کے سفر کے دوران خدمت اور آرام کے اعلیٰ ترین معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنے ملک کے ہوائی اڈوں سے ہی سعودی عرب میں داخلے کے تمام طریقہ کار مکمل کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ براہِ راست مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اپنی رہائش گاہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
اس اقدام نے پہلے مرحلے میں 10 ملکوں (مراکش، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، ترکی، آئیوری کوسٹ، مالدیپ، سینیگال اور برونائی دارالسلام) سے آنے والے حجاج کے تجربے میں انقلابی تبدیلی پیش کی۔ اس اقدام کے تحت آنے والوں کو مملکت کے سفر کے دوران اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
"روڈ ٹو مکہ " اقدام اللہ کے گھر کے مہمانوں کو دی جانے والی خدمات کے معیار کا خاص خیال رکھتا ہے کیونکہ یہ صرف مناسکِ حج کی ادائیگی سے متعلق سہولیات تک محدود نہیں ہے بلکہ اسی بنیاد پر "ضیوف الرحمان پروگرام" کو اپنایا گیا ہے تاکہ مملکت میں ان کے قیام کے پورے دورانیے کو یادگار بنایا جا سکے۔
ہیلتھ انشورنس، سامان کی براہِ راست ترسیل، مکہ بس پراجیکٹ، اور مدینہ منورہ میں شٹل سروس جیسی سہولیات نے خدمات اور سہولیات کے معیار کو بلند کیا ہے، اور اسلامی ثقافتی تجربے کو دریافت کرنے اور مملکت کی سیاحت سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ پروگرام لاکھوں ضیوف الرحمان کے لیے مناسک کی ادائیگی کو سہل اور آسان بنا کر حجاج و معتمرین کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ پروگرام سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اس ہدف کو پورا کرتا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو فریضہ حج اور عمرہ کی ادائیگی کے قابل بنانا ہے۔
پروگرام کا مقصد افرادی قوت کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ذریعے مملکت کی تیاری کو بڑھانا ہے تاکہ حکومتی، نجی اور سماجی شعبوں کے ساتھ مل کر زیادہ سے زیادہ حجاج اور معتمرین کی میزبانی کی جا سکے۔ اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مملکت کے مقام کو مزید استحکام ملتا ہے۔
آٹھویں سال بھی سعودی عرب 10 ممالک کے 17 مراکز پر موجود "روڈ ٹو مکہ " اقدام کے ذریعے حجاج کے داخلے کو آسان بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ بیت اللہ اور مسجد نبوی کے زائرین کی خدمت کے لیے سعودی عرب کے پختہ عزم کی عکاسی کر رہا ہے۔ ان پروگراموں کے ذریعے مملکت "کراؤڈ مینجمنٹ" میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو ثابت کرتی ہے، خاص طور پر اس نے قبل از وقت منصوبہ بندی کے تحت کئی ایسے اقدامات متعارف کرائے ہیں جو حجاج کرام کی آمد سے لے کر مقاماتِ مقدسہ سے ان کی واپسی تک ہر عمل کو آسان بناتے ہیں۔
واضح رہے سعودی عرب ہجوم کے انتظام میں ایک عالمی نمونہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر حج اور عمرہ کے سیزن کے دوران، جہاں قبل از وقت منصوبہ بندی، سمارٹ ٹیکنالوجیز اور وسیع سیکیورٹی انتظامات کے ذریعے ضیوف الرحمان کی سلامتی، نقل و حرکت کی روانی اور ہنگامی حالات کے انتظام کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں جرمن نشریاتی ادارے "ڈوئچے ویلے" نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال 2025 کے حج سیزن میں سعودی حکام نے ہجوم کے انتظام کو بہتر بنانے اور زائرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام نے تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا تاکہ صرف حج پرمٹ رکھنے والوں کا داخلہ یقینی بنایا جا سکے۔
یاد رہے سعودی حکام ان لوگوں کے خلاف سختی سے کام لیتے ہیں جو بغیر پرمٹ حج کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مقاماتِ مقدسہ میں بھگدڑ کے واقعات کو روکا جا سکے اور حجاج کی عبادات میں خلل نہ آئے۔ برطانوی اخبار "دی ٹیلی گراف" نے بھی مملکت کے اقدامات اور استعمال شدہ ٹیکنالوجی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے حجاج کو آسانی اور تحفظ کے ساتھ مناسک ادا کرنے میں مدد ملی۔ اخبار نے گزشتہ سال کی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ مملکت نے اپنے سکیورٹی منصوبوں کی تجدید کی ہے جہاں ٹیکنالوجی اور سخت ضابطوں نے سرکاری اداروں کے منصوبوں کو کامیاب بنانے میں مدد دی۔ اس سے لاکھوں افراد اس سالانہ عبادت کو سکون سے ادا کرنے کے قابل ہوئے۔
اس سال محمد افضل اور ان کی اہلیہ نے اس سعودی اقدام سے فائدہ اٹھایا اور طویل انتظار کے بعد بالاخر مقدس ترین سرزمین پر قدم رکھا ہے جہاں سے وہ اب ایسی یادیں لے کر لوٹیں گے جو وہ اپنے بچوں کو سنائیں گے اور یہ ایمان کے گہرے تجربے کی ایک بہترین داستان بن کر رہ جائے گی۔