وزیر اطلاعات پاکستان عطاء اللہ تارڑ نے غیر ملکی حمایت سے پاکستان کے خلاف جاری مہم کو پاکستان کی ان کوششوں کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا ہے جو پاکستان نے خطے میں امن لانے کے لیے امریکہ و یران جنگ رکوانے کے لیے شروع کر رکھی ہیں۔
وہ امریکی ٹی وی 'سی بی ایس' سے اسی ہفتے رپورٹ کی گئی اس خبر نما افواہ کے بارے میں بات کر رہے تھے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر ایرانی جہازوں کو ہینگر فراہم کر کے چھپایا گیا تھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے پہلے ہی ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی جمعرات کے روز میڈیا میں پھیلائی گئی ان افواہوں کی تردید کی جن میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستان سے 'ڈو مور' کے لیے کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایران امریکہ مذاکرات کے لیے مزید کوششیں کرے۔ ترجمان نے کہا چین نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے بھی پاکستان کی امن مذاکرات کے لیے کوششوں کو سراہا ہے اگرچہ سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان کی کوششوں پر تنقید کی۔ عطاء اللہ تارڑ نے اپنے 'ایکس' پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پچھلے چند دنوں سے پاکستان کے خلاف ایک مربوط مہم جاری ہے۔ جو پاکستان کے باہر سے شروع کی گئی ہے تاکہ امن کے لیے پاکستان کی نیت اور کوشش پر شکوک پیدا کیے جا سکیں۔
یہ منفی مہم کنفوژن پھیلانے کے لیے ہے۔ تاہم پاکستان کے وزیر اطلاعات نے اس سلسلے میں کسی خاص ملک یا شخصیت کا نام نہیں لیا ہے۔ تام انہوں نے کہا پاکستان اور اس کا ذمہ دار میڈیا ان منفی کوششوں اور پراپیگنڈے کو بے نقاب کرتا رہے گا۔
'ڈو مور'
رپورٹروں سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی نے کہا 12 مئی کو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں نے امن کے لیے جاری کوششوں اور خطے میں جاری صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
لیکن بعض رپورٹس یہ تاثر دیتی ہیں کہ چین کی طرف سے امریکہ ایران امن کوششوں کو بڑھانے کا کہا گیا ہے۔ اس بات کو طاہر اندرابی کے بقول اس طرح پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چین پاکستان کو 'ڈو مور' کے لیے کہہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا میں ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے کہنا چاہتا ہوں کہ اس فون کال کو غلط تشریح کر کے پیش کیا گیا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت مکمل دوستانہ ماحول میں ہوئی۔